

کار جہاں (میاں غفار) ساتویں قسط این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو سے میری کوئی ذاتی لڑائی نہیں مگر بعض لوگوں کا تعلیم بلکہ اعلیٰ تعلیم بھی کچھ نہیں بگاڑتی اور ایسے لوگوں پر اعلیٰ ترین تعلیم سے زیادہ

(چھٹی قسط)کارجہاں۔ میاں غفار احمد۔ این ایف سی یونیورسٹی کے وی سی آفس میں دو گھنٹوں پر محیط انٹرویو کے دوران جب وائس چانسلر ڈاکٹر کالرو صاحب کا اردلی چائے اور کچھ بیکری کا سامان لے کر کمرے میں داخل ہوا تو ڈاکٹر اختر علی کالرو نے

تحریر: میاں غفار ( کارجہاں قسط نمبر 5 ) انہی دنوں بتدریج تعلیم نے کاروبار کی شکل اختیار کر لی۔ جب میں نے روزنامہ’’ جنگ‘‘ میں ایجوکیشن رپورٹر کے طور پر کام شروع کیا تو مجھے تعلیمی بورڈوں کے قصے معلوم ہوئے۔ ملتان کا ایک طالب

تحریر : میاں غفار ، کار جہاں میں جس سکول میں پڑھتا تھا اس زمانے میں اس کی فیس بہت زیادہ ہوا کرتی تھی اگر آج کے زمانے کو دیکھا جائے تو میں مفت ہی میں پڑھ رہا تھا میری پنجاب یونیورسٹی کی سالانہ فیس 1250

(قسط 3)میاں غفار ؛کار جہاں مجھے اپنے سکول کے زمانے کے پرنسپل جن کا نام مجھے یاد نہیں مگر میں انہیں کبھی بھی بھلا نہ پایا اور وہ میری یادوں میں زندہ ہیں ۔ میں کلاس روم کے باہر برآمدے سے گزر رہا تھا۔ مجھے روکا

(قسط 2 )کار جہاں میاں غفار ڈاکٹر رفیق احمد نے درجنوں صفحات پر مشتمل تقریباً دس سال پرانی فائل کا مطالعہ شروع کیا تو عقدہ کھلا کہ یونیورسٹی کا ایک ملازم فوت ہو گیا تھا تو پنجاب یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن کی طرف سے مرحوم کی

کار جہاں میاں غفار(قسط اول ) عزت کا معیار ہر کسی کے نزدیک الگ الگ ہی ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اہل جنت کیلئے جنت اور دوزخ کا درمیانی علاقہ ہی دوزخ ہوتا ہے جبکہ اہل دوزخ کیلئے وہی جنت۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر

کار جہاں میاں غفار 20 روز گزر گئے ملتان کے محلہ جوگیاں والا میں سلنڈر پھٹنے سے سہری کے وقت منہدم ہونے والے گھروں کے ملبے تلے دب کر جن دو خاندانوں کے 9 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان میں سے ایک کا تو پورا خاندان
روداد زندگیڈاکٹر ظفر چوہدری3قسط نمبر میں نے ابتدا میں سلیم صافی کے کالم سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ کا ذکر کیا تھا جس میں صافی صاحب نے بتایا تھا کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار متحدہ عرب امارات کا رخ کیوں کررہے ہیں کیونکہ وہاں پر

قسط نمبر 1 تقریباً دو ماہ سے بقول غالب’’ یہ طبیعت ادھر نہیں آتی‘‘والا معاملہ میرے ساتھ تھا۔ لکھنے کو دل نہیں چاہتا تھا کہ اپنی روداد کیا لکھوں جبکہ پھر بقول غالب’’ ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے‘‘9 مئی سے 9 مئی تک

ایران کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی حالیہ بلا اشتعال خلاف ورزی اور اس کے بعد پاکستانی حدود کے اندر حملے نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں دو معصوم بچوں کی المناک موت اور تین

روداد زندگی: تحریر ڈاکٹر ظفر چوہدری مجھے صوفی صاحب نے اپنے پاس بلا لیا اور بھی چند لوگ ہی مجلس میں موجود تھے۔ ظہر کا بھی وقت نہیں ہوا تھا۔ میں اپنا مدعا بیان کیا کہ اگر آپ گورنر پنجاب کو میری سفارش فرما دیں تو

تحریر:ڈاکٹر ظفر چوہدری صوفی برکت علی مجھے اپنے گھر لے گئے جو کچی مٹی سے بنا ہوا تھا، گھر کے احاطہ میں پرانا بوہڑ کا درخت تھا۔ صوفی صاحب نے فرمایا کہ میں اسی جگہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں، درخت کے چاروں طرف چھوٹے

روزنامہ قوم۔ ملتان۔ سوموار 8 جنوری 2024 کالم بحوالہ ممتاز خان کھچی مرحوم کارِ جہاں۔ تحریر: میاں غفار زندگی میں ہزاروں لوگوں سے واسطہ رہا اور ہر روز ہی انسانی جبلت‘ نفسیات و رویوں کے حوالے سے نت نئے تجربات ہوتے رہتے ہیں۔ بعض لوگ زندگی
(روداد زندگی)تحریر: ڈاکٹر ظفر چوہدری میں جب سلار والا دارالاحسان پہنچا تو ظہر اور عصر کے درمیان وقت تھا۔ صوفی برکت علی صاحب اس وقت مسجد کے صحن میں تشریف فرما تھے۔ تقریباً دو یا اڑھائی سو کے قریب افراد بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی صوفی

کار جہاں ۔ میاں غفار آج 16 دسمبر ہے۔ پاکستان کے دو لخت ہونے کا تکلیف دہ دن۔وہ بنگالی جنہیں ہم ان کی ٹکہ نامی کرنسی کا نام لے کر دو ٹکے کے لوگ کہتے تھے، وہ جنہیں ہم کالے بھدے اور کمتر سمجھتے تھے۔ وہ

کار جہاں‘ میاں غفار پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کی تمام باتیں درست ثابت ہونے کے باوجود میں نے انہیں اہمیت نہ دی اور اِن کے علم اور بصیرت کو ایک غیر معمولی کی ذہانت ہی گردانتا رہا اور اسی طرح کئی سال بیت گئے۔ اسلام

” کارجہاں۔ میاں غفار احمد (قسط اول) منفرد اسلوب اور پختہ رائے کے حامل کالم نگار جناب ہارون الرشید جنہیں مجھ سمیت سینکڑوں لکھنے والے استاد گرامی کا درجہ دیتے ہیں، آج سے 20 سال قبل روزنامہ خبریں کے لئے کالم لکھا کرتے تھے۔ میں ان

تحریر : میاں غفار (کار جہاں ) ایک طرف پنجاب پولیس معصوم طلبہ کو موٹر سائیکل اور سکول بیگز سمیت پکڑے ہی جا رہی ہے اور دوسری طرف شہری پولیس یونیفارم میں ڈکیتی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ رہے ہیں۔ ملتان کے تھانہ

تحریر:میاں غفار(کار جہاں) یہ پنجاب پولیس نے کیا غدر مچار کھا ہے۔ فرعون بغیر کفن دنیا میں حنوط شدہ اور محفوظ کیوں کر ہے کہ لوگ عبرت پکڑیں مگر ہے کوئی جو عبرت حاصل کرے۔ یہ عا رضی یونیفارم والے اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے
تحریر:ڈاکٹر ظفر چوہدری میں نے شیخ رفیق احمد مرحوم کے حوالہ سے جو کچھ عرض کیا وہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے میری نسل کے لوگ اس صورتحال کو بخوبی جانتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے اپنی سیاسی وابستگی یا پسند و نا پسند کے لحاظ
تحریر : ڈاکٹر ظفر چوہدری میں بھٹو مرحوم کی انتخابی مہم اور اس دور حکومت میں وقوع پذیر ہونے والی سماجی‘ معاشرتی اور نفسیاتی تبدیلیوں بارے میں بات کرنا چاہتا تھا مگر ڈاکٹر شیر علی کے ذکر کی وجہ سے بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔
تحریر:ڈاکٹر ظفر چوہدری (رودادزندگی) شیخ رفیق احمد صاحب نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبرل اور جمہوریت پسند قوتوں کیلئے اگر کوئی سیاسی فورم ہے تو وہ پیپلزپارٹی ہی ہے اسی جماعت میں رہ کر اپنے مقاصد کو بڑھاوا دے سکتے ہیں، پیپلزپارٹی سے غلطیاں
تحریر:ڈاکٹر ظفر چوہدری (روداد زندگی) ڈرامہ کے اختتام پر اس وقت کے سپیکر پنجاب اسمبلی شیخ رفیق احمد نے ہم سب ’’فنکاروں‘‘ کو بلایا ۔ شیخ رفیق احمد اور اس وقت کے وفاقی وزیر صحت شیخ رشید احمد پیپلز پارٹی میں بائیں بازو کے نظریات کے
(روداد زندگی) ڈاکٹر ظفر چوہدری آئیے پھر سائنس کالج وحدت روڈ لاہور چلتے ہیں۔ یہ 1974/75ء کا زمانہ تھا۔ یہ تو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ کالجوں اور بین الکلیاتی تقریری مقابلوں کے علاوہ مشاعروں کا احوال اس دور میں کیسا ہوتا تھا۔ میں
تحریر: ڈاکٹر ظفر چوہدری دوسرے دن صبح 10 بجے مظفر آباد سے وادی نیلم کے مقام کیرن کی طرف روانہ ہوئے اعجاز نے کیرن میں رہائش کا انتظام کر رکھا تھا۔ میں دو سال پہلے اعجاز شفیع ڈوگر اور طاہر مسعود صاحب دونوں ریٹائرڈ ایس پی
( روداد زندگی ،قسط نمبر 1) تحریر:ڈاکٹر ظفرچوہدری میں تقریباًڈیڑھ ماہ وقفے کے بعد کالم لکھ رہا ہوں جس کی وجہ کچھ ضروری اور کچھ غیر ضروری وجوہات تھیں ’’ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی لگا‘‘ میں اکثر لکھتے ہوئے بھٹک جاتا ہوں اس
تحریر:عبدالحنان راجہ اسرائیلی وحشت و بربریت اپنے نقطہ کمال پر اور امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ عالمی برداری اور امت مسلمہ پر عیاں ہو چکا باوجود اس کے کہ غزہ میں ہر سو قیامت صغری کہ لاشیں بے گور و کفن، ہر گھر میں صف ماتم، کہ

تحریر:میاں غفار(کار جہاں) ایک مرتبہ پھر نیب کے پنجے تیز کئے جانے اور بلا امتیاز کڑے احتساب کی نوید سنائی جا رہی ہے اور یہ آخری موقع ہے کہ پھر شائید کچھ بھی باقی نہ رہے اور پھر شائید ایسا موقع بھی دوبارہ نہ آئے۔ بہت

تحریر : میاں غفار(کار جہاں) پرانے زمانے میں گھروں پر شیو کرنے کا رواج بہت ہی کم تھا۔ افسران اور زمیداروں کے گھروں پر علی الصبح حجام آ جایا کرتے تھے جو شیو کرتے اور بار بار استرے کو ایک چمڑے کی پٹی پر تیز کرتے



















