
(قسط اول) روزنامہ قوم ملتان، سوموار، 21 اکتوبر 2024۔ میاں غفار احمد کا کالم۔ کار جہاں اس ملک میں ہے کوئی جو ایجوکیشن مافیا کو لگام ڈال سکے، جو تعلیمی اداروں میں آٹے میں نمک کے برابر گھسے ہوئے عزتوں کو نوچنے والے چند درندوں کو

(کارِ جہاں) میاں غفار احمد کوٹ لکھپت انڈسٹریل ایریا لاہور میں نمازِمغرب سے تھوڑی دیر پہلے ایک شخص نے مجھ سے لفٹ لی۔ اُس کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا اور اُس کا ایک جوتا اتنا زیادہ ٹوٹا ہوا تھا کہ چلنا بھی مشکل تھا۔ گاڑی

تحریر؛ میاں غفار احمد (کار جہاں) مجھے 35 سالہ صحافتی زندگی میں یہ “اوپر سے حکم” کے ہزاروں بار سنے جانے والے مختصر ترین جملے کا مطلب آج تک سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ اوپر سے حکم آخر ہوتا کس کا ہے؟یہ کون ہے “اوپر

ابھی تو میں نے جنوبی پنجاب کی ضلع کونسلوں اور ان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ایڈمنسٹریٹر حضرات کی داستانیں شروع ہی کی تھیں کہ درمیان میں دیگر اہم ڈویلپمنٹس ہو گئیں۔ کیا کریں کہ نت نئی کہانیاں قلم کو بھٹکا اور ذہن کو الجھا دیتی ہیں۔

بہت سے دوستوں اور قارئین نے پوچھا کہ سابق ایس پی مظفر گڑھ راو طیب سعید مرحوم سے میڈیا کے کیا اختلافات تھے تو ان تمام دوستوں کے لئے لکھ رہا ہوں کہ ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر اور ایک جرنلسٹ پر تشدد کا معاملہ الگ ہے اور

روزنامہ قوم ملتان اتوار 15 ستمبر 2024 ۔۔میاں غفار احمد، کا کالم، سوال یہ ہے کہ پنجاب بھر میں بلدیہ اور ضلع کونسلز میں ڈپٹی کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر حضرات کے دور میں کرپشن عروج پر کیوں ہوتی ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ اول

(درسیرت سیاستدان)تحریر میاں غفار آج کا موضوع تو ضلع مظفرگڑھ کی انتظامیہ کی ’’خدمات‘‘ پر قلم کی سیاہی کا استعمال کرنا تھا مگر ایک قاریہ نے نئی ٹپ دے دی اور مجھے بھولے بسرے واقعات یاد آ گئے۔ قاریہ نے کہا کہ آپ نے کالم میں

فرعون نے دعویٰ خدائی کیا تھا۔ وہ بچوں کو موت اور والدین کو اذیت دیتا۔ مصر کی عوام نے کہا کہ اللہ تو رازق بھی ہے اور اگر تو خدائی کا دعوے دار ہے تو پھر ہمیں کھانا بھی دے۔ روایت ہے کہ فرعون نے عوام

کارجہاں؛ تحریر میاں غفار آج کا موضوع تو ضلع مظفرگڑھ کی انتظامیہ کی ’’خدمات‘‘ پر قلم کی سیاہی کا استعمال کرنا تھا مگر ایک قاریہ نے نئی ٹپ دے دی اور مجھے بھولے بسرے واقعات یاد آ گئے۔ قاریہ نے کہا کہ آپ نے کالم میں

سوا سو سال پرانے ضع مظفر گڑھ کی مظلوم عوام ہر دور میں ظلم ہی کا شکار رہی اور اگر 2010 کے سیلاب میں دنیا بھر سے کوئی امداد آئی تو اس کا چوتھائی حصہ بھی سیلاب متاثرین تک نہ پہنچ سکا۔ اگر فرانس سے امداد

کار جہاں، تحریر : میاں غفار مجھے مظفر گڑھ کے “تاجداروں” پر کالم کی دوسری قسط میں کچھ انکشافات کرنے تھے مگر رانا عبدالمنان کی ایسے مقدمے میں گرفتاری نے قلم کا رخ موڑ دیا۔ میں 1997 میں لاہور سے ملتان آیا تو میرا رانا عبدالمنان

کار جہاں ؛تحریر میاں غفار مثل مشہور ہے “بات کو منہ سے نکالو تو منہ سے نکلی وہی بات تم کو شہر سے نکال دے گی” حضرت بایزید بسطامی کے قول کو میں بہت ہی زیادہ Dilute کرکے لکھ رہا ہوں کیونکہ بعض اوقات الفاظ کی
پنجاب میں ایک بار پھرسے کچے کے آپریشن کے چرچے ہیں یہ ہر سال یہ سلسلہ مخصوص موسم میں شروع ہوتا ہے اور پکے کے معاملات ٹھیک ہونے تک جاری رہتاہے ہم نے کچہ آپریشن بارے آگاہ کرنا چند ماہ قبل ہی شروع کر دیا تھا
کچے کے علاقے کے بارے آپ سب کئی دہائیوں سے سنتے آ رہے ہیں ، مگر یہ کچے کا علاقہ کیا ہوتا ہے اور کہاں واقع ہے، اور کتنا بڑا ہے اس کے بارے آج سب کچھ جانتے ہیں ،انگریز دور میں دریاؤں کے بہاؤ کو

پچھلے دنوں بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں طوفانی بارشوں کے دوران ایک ویڈیووائرل ہوئی جس میں نظرآتاہے کہ ایک سفیدرنگ کی گاڑی پانی کے ریلے میں پھنسی ہوئی ہے جس میں ڈرائیورسمیت ایک خاتون اورتین بچوں سمیت پانچ افراد سوارہیں۔موقع پربے شمارلوگ جمع ہیں لیکن

تحریر : غلام دستگیرچوہان پوراسسٹم ایک طرف ہے اورچنی لال ایک طرف ہے۔چنی لال نے طاقتوراشرافیہ کےپیسے کےبل بوتےپرانصاف کوکچلنےسےبچالیا۔چنی لال کون ہیں؟یہ آگے چل کرآپکو بتاتےہیں ۔پہلے اس واقعہ کاپس منظرجان لیں۔یہ 19اگست 2024کی شام ہے۔’’ابوآفس سے چھٹی ہوگئی ہے مجھے لینے آجائیں‘‘بیٹی کے فون

بے’’ادب‘‘ اورسپرنووا ودیگرافسانے رات کودفترسےفارغ ہوکردوستوں سےملاقات کےبعدرات کولیٹ گھر پہنچا ۔ کھانا کھا کر سوتےسوتےرات کےڈھائی پونےتین بج گئے ۔ ساڑھےچاربجے پھرآنکھ کھل گئی۔اللہ کو یاد کرنےکےبعدموبائل اٹھاکرگھنٹوں سکرین کو اوپر نیچے کرتارہامگرنیندنہ آئی۔دوپونےتین گھنٹےسوکرہی نیندآنکھوں سےکوسوں دورجاچکی تھی۔موبائل کے مسلسل استعمال سے بیٹری لوکی

تحریر:میاں غفار (کار جہاں ) ایک سوایک سالہ سلائی مشین اور ہجرت پفاف کمپنی کی اس سلائی مشین کی عمر 101 سال ہے جسے ہماری چوتھی نسل استعمال کر رہی ہے۔ اس 1923ء ماڈل کی سلائی مشین کو چار نسلیں استعمال کر چکی ہیں۔ اسے میری
ضرب قلم (عبدالحنان راجہ) یہ حسن اتفاق تھا یا ذلت مقدر تھی، کہ اگر تلہ کیس کے مرکزی کردار موجودہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کی بیٹی 54 سال بعد فرار ہو کے پہنچیں، تو پہنچیں کہاں، کہ جہاں کا خمیر تھا. اور اب بنگلہ

تحریر:ڈاکٹر ظفر چوہدری(روداد زندگی) پٹیالہ مشرقی پنجاب کا مشہور شہر بھارت کی تقسیم سے پہلے ریاست پٹیالہ ہوتی تھی جس کے سکھ مہاراجہ حکمران تھے۔ میں اپنے کزنز کے ساتھ پٹیالہ گیا تو ہم وہاں کے سب سے مشہور بازار عدالت بازار میں گھوم رہے تھے (یاد

روداد زندگی تحریر: ڈاکٹر ظفر چوہدری آج میں چانڈکا میڈیکل کالج کے طالب علمی کے زمانہ میں اپنی اور اپنے دوستوں کی شرارتوں اور حماقتوں بارے لکھنا چاہتا ہوں۔ ایک دفعہ کمال سومرو نے شکار پور میں واقع اپنے گھر ہمیں دعوت دی۔ جس میں کھانے کے

چانڈکا میں موجود جیئے سندھ سٹوڈنٹ فیڈریشن اور پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں اور غیر سندھی طلبہ جن میں پنجابی پٹھان کشمیری گلگتی اور سندھ کے مہاجر طلباء کی ایک سوچ تھی جی ایم سید کے بارے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں
روداد زندگی: تحریر ڈاکٹر ظفر چوہدری ہمارے ہاں عام طور پر پروفیشنل کالج کے کلاس فیلوز اور خاص کر ہاسٹل فیلوز کی دوستیاں زندگی بھر یاد رہتی ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی کی دوستی اور ڈسپلنسری فورسز میں بیج میٹ کا رشتہ زندگی بھر قائم اور یاد

روداد زندگی (ڈاکٹر ظفر چوہدری) میرا خیال تھا کہ میں روداد زندگی کو اپنے ذاتی واقعات اور حالات لکھنے تک محدود رکھوں جس میں اس وقت کے معاشرتی ، سیاسی اور ثقافتی اقدا ر کو بھی بیان کروں مگر کیا کروں کہ ’’ ہوتا ہے شب و
ٹک ٹاک ایڈمنسٹریشن پاکستان میں اداروں کے درمیان ٹکرائو او ر تنائو بہت بار دیکھنے کو ملا ہے لیکن حال ہی میں بہاول نگر میں ہونے والا اند وہناک سانحہ پہلی بار دیکھنے کو ملا ۔سانحہ بہاولنگر کو ہر شخص اور ہر مکتبہ فکر کے افراد

تحریر: میاں غفار (کارجہاں قسط نمبر 6) میں ایسے بہت سے سرکاری ملازمین کو جانتا ہوں جو اپنی شادی سے پہلے بہت ایماندار اور محدود ضروریات میں زندگی گزارتے تھے مگر شادی کے بعد بتدریج وہ کرپشن کی طرف مائل ہوتے گئے اور جوں جوں ریٹائرمنٹ

تحریر؛میاں غفار (کارجہاں) قسط نمبر 5 میں نے مذکورہ بیوہ کی بیٹی کا معاملہ بہاولپور میں اپنے محترم دوست اور سینئر صحافی نصیر چوہدری کے سپرد کیا اور پھر اس بیوہ کے خط کو اپنے لیٹر پیڈ پر چند سطریں لکھ کر جی ایچ کیو بھجوا

تحریر : میاں غفار (کارجہاں) قسط نمبر4 پچھلے کالم میں میں نے لکھا کہ اللہ پاک کے سبق دینے اور مدد کرنے کے اربوں طریقے ہیں۔ لاہور کے علاقے ساندہ کے ایک نوجوان کوجو کہ سرکاری ملازم تھا اور غالباً محکمہ ایکسائز کا ملازم تھا۔ اسے

تحریر: میاں غفار (کارجہاں) قسط نمبر3 سابقہ ضلع شیخوپورہ اور موجودہ ضلع ننکانہ میں جڑانوالہ روڈ پر ایک قصبہ منڈی فیض آباد ہے جس کا پرانا نام دھوکہ منڈی ہوا کرتا تھا۔ یہاں کے لوگ بہت پُرامن اور کاروباری ہیں اور تعلیم میں بھی کسی سے

کار جہاں (قسط اول):تحریر میاں غفار قسط اولاس دور کو گزرے سالہا سال بیت گئے جب عید الفطر ہمارے 80 فیصد پاکستانیوں کے لئے خوشیاں لاتی تھی۔ اب کوئی بے چارہ کسی ناکے سے خالی جیب گزرے تو رمضان کے آخری عشرے میں یہ عمل اس کے























