

چین کی معاشی ترقی اور ایشیا میں پائی جانے والی ایسی معدنیات جو کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں، کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں سے یہ کہا اور مانا جاتا ہے کہ موجودہ صدی ایشیا کی ترقی کی صدی ہے۔میں پہلے بھی لکھ

وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، نسلیں جوان ہو جاتی ہیں مگر تاریخ کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کیلنڈر کے بدلنے سے نہیں بھرتے۔ مشرقی پنجاب بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں 1984ء کا آپریشن بلیو سٹار، اندرا گاندھی کا قتل،

مشرقی پنجاب میں بندوقوں کی گھن گرج آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی مگر خاموشی کے نیچے دفن ہونے والی کہانیاں ابھی زندہ تھیں۔ سڑکوں پر چیک پوسٹیں تھیں، دیہات میں خوف تھا، گھروں میں انتظار تھا اور ہزاروں خاندان ایسے تھے جن کے پیارے ایک

تاریخ صرف کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، کبھی وہ عدالتوں کی فائلوں میں دب جاتی ہے، کبھی کسی ماں کی آنکھوں میں جمے آنسوؤں میں زندہ رہتی ہے، کبھی کسی لاپتا شخص کے انتظار میں دروازے پر نظریں جمائے خاندان کی خاموشی میں سانس لیتی ہے

رسم شبیری(حکم اذاں) شیخ محمد فہم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اسرائیل اور امریکہ شاید ابھی ایران پر حملہ کرنے میں اتنی جلدی نہ کرتے مگر مودی کے دورہ اسرائیل کے اگلے روز ہی اسرائیل نے امریکہ کی آشیر باد سے ایران پر حملہ کر دیا اور اس

محض ایک گندی مچھلی نے پی ٹی وی ملتان کے صاف ستھرے تالاب کو پلید کیا ہوا ہے۔ ویسے بھی دنیا میں برے غلیظ اور آلودہ لوگ تو کم ہوتے ہیں مگر ایسوں کے سہولت کار بہت زیادہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ آلودگی

میرا دل یقین نہیں کرتا کہ ایف آئی اے ملتان میں تعینات ایک باریش آفیسر نے وفاقی ادارے کی گزیٹڈ ملازمت کی حامل ایک خاتون اور وہ بھی سید زادی، کی غیر موجودگی میں اس کے بیٹے کو اپنے دفتر میں کھڑا کرکے اسکی ماں کو

ویسے تو پاکستان میں ہر شعبہ ہی زوال پذیر ہے مگر جو زوال سفارشی بھرتیوں سے پی ٹی وی میں آیا ہے اس کی کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔ اللہ غریق رحمت کرے امجد اسلام امجد بہت پائے کے شاعر اور لکھاری تھے اور انہوں نے

گزشتہ رات 12 بج کر پانچ منٹ پر میرے بیٹے، داماد اور دونوں بیٹیوں نے’’ہیپی فادرز ڈے‘‘ کا میسج بھیجا تو مجھے یاد آیا کہ آج تو’’یوم والد‘‘ ہے۔ اللہ تبارک و تعالی میرے والد صاحب کو غریق رحمت فرمائے۔ میرے بہن بھائی اور والدہ تو

پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے ماس کمیونیکیشن کے تھیسز میں میرا ٹاپک0pinion of Indian viewers about PTV transmission.تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی صاحب جو ہمارے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے اور پروفیسر مجاہد منصوری صاحب نے یہ ٹاپک مجھے اس لیے دیا کہ میرے ان سکھوں

اس عنوان کے تحت لکھے گئے کالموں کی سیریز میںگزشتہ قسط کےذریعے جامعات میں ترقی کے غیر منصفانہ نظام اور میرٹ کی پامالی جیسے اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مگر اگر ہم اس بحران کی گہرائی میں جائیں تو ایک اور نہایت بنیادی اور

بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان نے کیا خوب اور زبردست جملہ بولا تھا کہ ’’جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ زندگی میں بارہا اس تلخ جملے کو حقیقت بنتے دیکھا اور ہر بار د ل کرچی کرچی

کہتے ہیں جنگ کبھی ایک دن میں نہیں پھوٹتی، وہ خاموشی سے پلتی ہےجیسے کسی دریا کے کنارے دراڑ آہستہ آہستہ گہری ہوتی جاتی ہے۔ برسوں سے دنیا میں ایک جملہ گردش کر رہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ پانی پر ہوگی۔ یہ بات ماہرین، دانشوروں

گزشتہ قسط میں ترقیاتی منصوبوں، مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کی کمزوریوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی مگر اس پورے نظام کی ایک اور نہایت تشویشناک جہت وہ ہے جو براہِ راست انسانی وسائل یعنی تقرریوں، تربیت، اور انتظامی ذمہ داریوںسے جڑی ہوئی ہے۔ہمارے ہاں جامعات

گزشتہ اقساط میں راقم الحروف نے اس امر کا تفصیلی جائزہ لیا تھا کہ کس طرح بھرتیوں میں بے لگام خودمختاری، کمزور قیادت، اور احتساب کے فقدان نے پنجاب کی جامعات کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جہاں میرٹ ایک خواب اور ہر

تیسویں پارے کا آغاز سورۃ نباء سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہوگی اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے ہونے کے بارے میں شبہات

سورۃ الملک : حدیث پاک میں سورۃ الملک کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں‘ اسے’’المنجیہ‘‘ (نجات دینے والی) اور ’’الواقیاہ‘‘ (حفاظت کرنے والی) کہا گیا‘ اس سورۂ مبارکہ کی تلاوت عذابِ قبر میں تخفیف اور نجات کا باعث ہے‘ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ

پنجاب کی جامعات میں خودمختاری کے نام پر بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں، وائس چانسلرز کے انتظامی کردار، سنڈیکیٹ کے ناجائز استعمال اور حکومتی نگرانی کی کمزوریوں کا مختصر جائزہ لیا گیا تاہم اگر اس پورے نظام کے سب سے زیادہ حساس اور فیصلہ کن پہلو کی

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔ حضرت خولہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت

اس پارے کے شروع میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے اجنبی انسان نہیں تھے بلکہ بشری شکل میں فرشتے تھے‘ تو ابراہیم علیہ السلام نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مشن کیا ہے‘ اُنہوں نے کہا:

سورۃ الاحقاف: اس سورہ میں ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا تاکیدی حکم ہے اور ماں نے حمل اور وضعِ حمل کے دوران جو بے پناہ مشقتیں اٹھائیں‘ ان کا ذکر ہے اور یہ بھی بتایا کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ

سورۃ الزمر: اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کو جھٹلانے والے کو جہنمی قرار دیا گیا اور سچے دین کو لے کر آنے والے‘ یعنی رسول اللہﷺ اور ان کی تصدیق کرنے والے (مفسرین نے اس سے حضرت ابوبکر

سورہ یاسیناس پارے کی ابتدا میں بجائے اس کے کہ مشرکین کے باطل معبودوں کی مذمت کی جاتی‘ نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا:’’میں اس معبود کی عبادت کیوں نہ کروں‘ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم بھی اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘ کیا میں
بائیسویں پارے کے شروع میں ازواجِ مطہراتؓ سے کہا گیا کہ آپ لوگوں کا مقام امتیازی ہے۔ سو‘ تقویٰ اختیار کرو‘ غیر محرم مردوں کے ساتھ نرم لہجے میں بات نہ کرو اور ضرورت کے مطابق بات کرو‘ اپنے گھروں پر رہو اور زمانۂ جاہلیت کی
اکیسویں پارے کی پہلی آیت میں تلاوتِ قرآن اور اقامتِ صلوٰۃ کا حکم ہے اور یہ کہ نماز کے منجملہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘ اسی معیار پر ہر مسلمان اپنی نماز کی مقبولیت اور افادیت کا

انیسویں پارے کے شروع میں ایک بار پھر کفارِ مکہ کے ناروا مطالبات کا ذکر ہے کہ منکرینِ آخرت یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتہ اتر کر آئے یا ہم اللہ تعالیٰ کو کھلے عام دیکھیں۔ قرآن پاک نے بتایا کہ جس دن کفار

پندرھویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں‘ اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریمﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخِ نبوت‘ تاریخِ ملائک اور تاریخِ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو

چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہلِ جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو‘ پھر اللہ تعالیٰ

اس پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کو غیب کی خبر سے مطلع فرمایا کہ جب آپ سفرِ جہاد سے واپس مدینہ طیبہ پہنچیں گے تو بغیر کسی عذر کے جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے عذر



























