

کسی صوبے کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس کے بڑے شہروں کی رونق سے نہیں کیا جا سکتا۔ اصل تصویر وہاں دکھائی دیتی ہے جہاں شہر ختم ہوتے ہیں اور دور دراز بستیاں شروع ہوتی ہیں۔ اگر ایک ہی صوبے کے کچھ علاقے ترقی کی دوڑ

کہتے ہیں کہ بھارت کی کسی دور افتادہ چند گھروں کی بستی پر ڈاکوئوں نے اس وقت حملہ کر دیا جب گاؤں کے سارے مرد تین دن کے لیے اجتماعی طور پر کسی یاترا پر گئے ہوئے تھے اور بستی میں خواتین اکیلی تھیں۔ وہ دور

ایک سرد شام میں چولستان کے علاقے کڈ والا بنگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک بکر وال (گڈریے) نے مجھے بتایا تھا کہ جب چولستان میں بارشیں ہوتی ہیں تو رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں اور ان پھولوں کو بکریاں بہت شوق سے کھاتی ہیں تو

شہرِ اقتدار، جس کی کل وسعت محض اٹھائیس کلومیٹر کے مختصر دائرے میں سمٹی ہوئی ہے، وہاں کا انتظامی انتشار ہمارے فرسودہ بیوروکریٹک ڈھانچے کی بے تدبیری اور زوال پذیری کا نوحہ سنا رہا ہے۔ جو نظام ایک محدود اور دارالحکومت جیسے حساس و مرکزی خطے

میاں صاحب، السلام علیکم، میں حرم پاک مکہ شریف میں ہوں۔ میاں صاحب، السلام علیکم، میں مدینے میں ہوں روضہ رسول کے سامنے کھڑا ہوں، آئیے میرے ساتھ دعا کر لیجئے، اس کا موبائل کیمرہ آن ہوتا تھا اور وہ گڑگڑا کر، رقت آمیزی میں ڈوب

پاکستان کے چار صوبوں کو 20 صوبوں یا انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر اگر عمل درآمد ہو گیا تو اس سے نہ صرف مرکز مضبوط ہو گا اس کی اس وقت اشد ضرورت ہے بلکہ این ایف سی کی گزشتہ دو دہائیوں سے

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی تعداد لگ بھگ 75 فیصد ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ پاکستانی مسلمان ہیں کیونکہ یہ اہل بیت سے بھی بہت عقیدت رکھتے ہیں اور خلفائے راشدین کا احترام بھی کرتے ہیں تاہم میرا مذہب بارے زیادہ

سرکاری سطح پر پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں کبھی گرم جوشی اور کبھی سرد مہری چلتی رہی ہے مگر انقلاب ایران کے بعد پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات میں موجودہ جنگ سے پہلے کبھی گرم جوشی کا موقع نہیں آیا۔ ایران میں امام

آئیے قارئین، اب کالموں کی اقساط کے سلسلے کے آخری اور تیسرے حصے میں ایران اور پاکستان کے درمیان 1947 سے لے کر آج تک کے تعلقات کو جانچتے ہیں۔ 1947 کے تھوڑا عرصہ بعد ہی پاکستان امریکی کیمپ میں شامل ہو گیا تھا۔ ایران اور

چین کی معاشی ترقی اور ایشیا میں پائی جانے والی ایسی معدنیات جو کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں، کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں سے یہ کہا اور مانا جاتا ہے کہ موجودہ صدی ایشیا کی ترقی کی صدی ہے۔میں پہلے بھی لکھ

وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، نسلیں جوان ہو جاتی ہیں مگر تاریخ کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کیلنڈر کے بدلنے سے نہیں بھرتے۔ مشرقی پنجاب بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں 1984ء کا آپریشن بلیو سٹار، اندرا گاندھی کا قتل،

مشرقی پنجاب میں بندوقوں کی گھن گرج آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی مگر خاموشی کے نیچے دفن ہونے والی کہانیاں ابھی زندہ تھیں۔ سڑکوں پر چیک پوسٹیں تھیں، دیہات میں خوف تھا، گھروں میں انتظار تھا اور ہزاروں خاندان ایسے تھے جن کے پیارے ایک

تاریخ صرف کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، کبھی وہ عدالتوں کی فائلوں میں دب جاتی ہے، کبھی کسی ماں کی آنکھوں میں جمے آنسوؤں میں زندہ رہتی ہے، کبھی کسی لاپتا شخص کے انتظار میں دروازے پر نظریں جمائے خاندان کی خاموشی میں سانس لیتی ہے

رسم شبیری(حکم اذاں) شیخ محمد فہم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اسرائیل اور امریکہ شاید ابھی ایران پر حملہ کرنے میں اتنی جلدی نہ کرتے مگر مودی کے دورہ اسرائیل کے اگلے روز ہی اسرائیل نے امریکہ کی آشیر باد سے ایران پر حملہ کر دیا اور اس

محض ایک گندی مچھلی نے پی ٹی وی ملتان کے صاف ستھرے تالاب کو پلید کیا ہوا ہے۔ ویسے بھی دنیا میں برے غلیظ اور آلودہ لوگ تو کم ہوتے ہیں مگر ایسوں کے سہولت کار بہت زیادہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ آلودگی

میرا دل یقین نہیں کرتا کہ ایف آئی اے ملتان میں تعینات ایک باریش آفیسر نے وفاقی ادارے کی گزیٹڈ ملازمت کی حامل ایک خاتون اور وہ بھی سید زادی، کی غیر موجودگی میں اس کے بیٹے کو اپنے دفتر میں کھڑا کرکے اسکی ماں کو

ویسے تو پاکستان میں ہر شعبہ ہی زوال پذیر ہے مگر جو زوال سفارشی بھرتیوں سے پی ٹی وی میں آیا ہے اس کی کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔ اللہ غریق رحمت کرے امجد اسلام امجد بہت پائے کے شاعر اور لکھاری تھے اور انہوں نے

گزشتہ رات 12 بج کر پانچ منٹ پر میرے بیٹے، داماد اور دونوں بیٹیوں نے’’ہیپی فادرز ڈے‘‘ کا میسج بھیجا تو مجھے یاد آیا کہ آج تو’’یوم والد‘‘ ہے۔ اللہ تبارک و تعالی میرے والد صاحب کو غریق رحمت فرمائے۔ میرے بہن بھائی اور والدہ تو

پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے ماس کمیونیکیشن کے تھیسز میں میرا ٹاپک0pinion of Indian viewers about PTV transmission.تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی صاحب جو ہمارے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے اور پروفیسر مجاہد منصوری صاحب نے یہ ٹاپک مجھے اس لیے دیا کہ میرے ان سکھوں

اس عنوان کے تحت لکھے گئے کالموں کی سیریز میںگزشتہ قسط کےذریعے جامعات میں ترقی کے غیر منصفانہ نظام اور میرٹ کی پامالی جیسے اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مگر اگر ہم اس بحران کی گہرائی میں جائیں تو ایک اور نہایت بنیادی اور

بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان نے کیا خوب اور زبردست جملہ بولا تھا کہ ’’جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ زندگی میں بارہا اس تلخ جملے کو حقیقت بنتے دیکھا اور ہر بار د ل کرچی کرچی

کہتے ہیں جنگ کبھی ایک دن میں نہیں پھوٹتی، وہ خاموشی سے پلتی ہےجیسے کسی دریا کے کنارے دراڑ آہستہ آہستہ گہری ہوتی جاتی ہے۔ برسوں سے دنیا میں ایک جملہ گردش کر رہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ پانی پر ہوگی۔ یہ بات ماہرین، دانشوروں

گزشتہ قسط میں ترقیاتی منصوبوں، مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کی کمزوریوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی مگر اس پورے نظام کی ایک اور نہایت تشویشناک جہت وہ ہے جو براہِ راست انسانی وسائل یعنی تقرریوں، تربیت، اور انتظامی ذمہ داریوںسے جڑی ہوئی ہے۔ہمارے ہاں جامعات

گزشتہ اقساط میں راقم الحروف نے اس امر کا تفصیلی جائزہ لیا تھا کہ کس طرح بھرتیوں میں بے لگام خودمختاری، کمزور قیادت، اور احتساب کے فقدان نے پنجاب کی جامعات کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جہاں میرٹ ایک خواب اور ہر

تیسویں پارے کا آغاز سورۃ نباء سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہوگی اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے ہونے کے بارے میں شبہات

سورۃ الملک : حدیث پاک میں سورۃ الملک کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں‘ اسے’’المنجیہ‘‘ (نجات دینے والی) اور ’’الواقیاہ‘‘ (حفاظت کرنے والی) کہا گیا‘ اس سورۂ مبارکہ کی تلاوت عذابِ قبر میں تخفیف اور نجات کا باعث ہے‘ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ

پنجاب کی جامعات میں خودمختاری کے نام پر بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں، وائس چانسلرز کے انتظامی کردار، سنڈیکیٹ کے ناجائز استعمال اور حکومتی نگرانی کی کمزوریوں کا مختصر جائزہ لیا گیا تاہم اگر اس پورے نظام کے سب سے زیادہ حساس اور فیصلہ کن پہلو کی

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔ حضرت خولہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت

اس پارے کے شروع میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے اجنبی انسان نہیں تھے بلکہ بشری شکل میں فرشتے تھے‘ تو ابراہیم علیہ السلام نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مشن کیا ہے‘ اُنہوں نے کہا:

سورۃ الاحقاف: اس سورہ میں ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا تاکیدی حکم ہے اور ماں نے حمل اور وضعِ حمل کے دوران جو بے پناہ مشقتیں اٹھائیں‘ ان کا ذکر ہے اور یہ بھی بتایا کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ





























