

بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان نے کیا خوب اور زبردست جملہ بولا تھا کہ ’’جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ زندگی میں بارہا اس تلخ جملے کو حقیقت بنتے دیکھا اور ہر بار د ل کرچی کرچی

کہتے ہیں جنگ کبھی ایک دن میں نہیں پھوٹتی، وہ خاموشی سے پلتی ہےجیسے کسی دریا کے کنارے دراڑ آہستہ آہستہ گہری ہوتی جاتی ہے۔ برسوں سے دنیا میں ایک جملہ گردش کر رہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ پانی پر ہوگی۔ یہ بات ماہرین، دانشوروں

گزشتہ قسط میں ترقیاتی منصوبوں، مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کی کمزوریوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی مگر اس پورے نظام کی ایک اور نہایت تشویشناک جہت وہ ہے جو براہِ راست انسانی وسائل یعنی تقرریوں، تربیت، اور انتظامی ذمہ داریوںسے جڑی ہوئی ہے۔ہمارے ہاں جامعات

گزشتہ اقساط میں راقم الحروف نے اس امر کا تفصیلی جائزہ لیا تھا کہ کس طرح بھرتیوں میں بے لگام خودمختاری، کمزور قیادت، اور احتساب کے فقدان نے پنجاب کی جامعات کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جہاں میرٹ ایک خواب اور ہر

تیسویں پارے کا آغاز سورۃ نباء سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہوگی اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے ہونے کے بارے میں شبہات

سورۃ الملک : حدیث پاک میں سورۃ الملک کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں‘ اسے’’المنجیہ‘‘ (نجات دینے والی) اور ’’الواقیاہ‘‘ (حفاظت کرنے والی) کہا گیا‘ اس سورۂ مبارکہ کی تلاوت عذابِ قبر میں تخفیف اور نجات کا باعث ہے‘ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ

پنجاب کی جامعات میں خودمختاری کے نام پر بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں، وائس چانسلرز کے انتظامی کردار، سنڈیکیٹ کے ناجائز استعمال اور حکومتی نگرانی کی کمزوریوں کا مختصر جائزہ لیا گیا تاہم اگر اس پورے نظام کے سب سے زیادہ حساس اور فیصلہ کن پہلو کی

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔ حضرت خولہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت

اس پارے کے شروع میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے اجنبی انسان نہیں تھے بلکہ بشری شکل میں فرشتے تھے‘ تو ابراہیم علیہ السلام نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مشن کیا ہے‘ اُنہوں نے کہا:

سورۃ الاحقاف: اس سورہ میں ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا تاکیدی حکم ہے اور ماں نے حمل اور وضعِ حمل کے دوران جو بے پناہ مشقتیں اٹھائیں‘ ان کا ذکر ہے اور یہ بھی بتایا کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ

سورۃ الزمر: اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کو جھٹلانے والے کو جہنمی قرار دیا گیا اور سچے دین کو لے کر آنے والے‘ یعنی رسول اللہﷺ اور ان کی تصدیق کرنے والے (مفسرین نے اس سے حضرت ابوبکر

سورہ یاسیناس پارے کی ابتدا میں بجائے اس کے کہ مشرکین کے باطل معبودوں کی مذمت کی جاتی‘ نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا:’’میں اس معبود کی عبادت کیوں نہ کروں‘ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم بھی اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘ کیا میں
بائیسویں پارے کے شروع میں ازواجِ مطہراتؓ سے کہا گیا کہ آپ لوگوں کا مقام امتیازی ہے۔ سو‘ تقویٰ اختیار کرو‘ غیر محرم مردوں کے ساتھ نرم لہجے میں بات نہ کرو اور ضرورت کے مطابق بات کرو‘ اپنے گھروں پر رہو اور زمانۂ جاہلیت کی
اکیسویں پارے کی پہلی آیت میں تلاوتِ قرآن اور اقامتِ صلوٰۃ کا حکم ہے اور یہ کہ نماز کے منجملہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘ اسی معیار پر ہر مسلمان اپنی نماز کی مقبولیت اور افادیت کا

انیسویں پارے کے شروع میں ایک بار پھر کفارِ مکہ کے ناروا مطالبات کا ذکر ہے کہ منکرینِ آخرت یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتہ اتر کر آئے یا ہم اللہ تعالیٰ کو کھلے عام دیکھیں۔ قرآن پاک نے بتایا کہ جس دن کفار

پندرھویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں‘ اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریمﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخِ نبوت‘ تاریخِ ملائک اور تاریخِ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو

چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہلِ جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو‘ پھر اللہ تعالیٰ

اس پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کو غیب کی خبر سے مطلع فرمایا کہ جب آپ سفرِ جہاد سے واپس مدینہ طیبہ پہنچیں گے تو بغیر کسی عذر کے جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے عذر

دسویں پارے کے شروع میں کفار پر غلبے کی صورت میں حاصل شدہ مالِ غنیمت کا حکم بیان کیا گیا ہے کہ اس کے چار حصے مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوں گے اور پانچواں حصہ اللہ اور رسولؐ اور (رسولؐ کے) قرابت داروں‘ یتیموں‘ مسکینوں اور

نویں پارے کے شروع میں قومِ شعیب علیہ السلام کے سرکش سرداروں کی اس دھمکی کا ذکر ہے کہ اے شعیب! ہمارے دین کی طرف پلٹ آؤ‘ ورنہ ہم تمہیں اور تمہارے پیرو کاروں کو جلاوطن کر دیں گے۔ شعیب علیہ السلام نے اللہ سے التجاکی

رسول کریمﷺ سے کفار طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے کہ ہم اس وقت ایمان لائیں گے‘ جب فرشتے ہمارے پاس اتر کر آئیں یا برزخ و آخرت کے بارے میں آپ جو باتیں ہمیں بتاتے ہیں‘ ہمارے جو لوگ مرچکے ہیں‘ وہ زندہ ہو کر

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب نبی کریمﷺ کے اصحاب نجاشی کے پاس پہنچے اور انہوں نے قرآنِ کریم پڑھا اور ان کے علماء اور راہبوں نے قرآنِ مجید سنا‘ تو حق کو پہچاننے کی وجہ سے ان کے آنسو بہنے لگے‘ اس

اسلام برائی کی تشہیر کو پسند نہیں فرماتا ‘مگر مظلوم کی داد رسی کیلئے ظالم کے خلاف آوازبلند کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ آیت 150 میں بتایا کہ جو لوگ ایمان لانے میں اللہ اور اُس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں یا بعض رسولوں

پانچویں پارے کے شروع میں محرماتِ قطعیہ کے تسلسل میں یہ بھی بتایا کہ جب تک کوئی عورت کسی دوسرے شخص کے نکاح میں ہے‘ اس سے نکاح حرام ہے، یہاں تک کہ اگر شوہر نے طلاق دے دی ہو تو عدت کے اندر نکاح اور

چوتھے پارے کی پہلی آیت میں بیان ہوا کہ نیکی کا مرتبۂ کمال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ رسول اللہ ؐاونٹ کا گوشت کھاتے تھے اور اونٹنی کا دودھ نوش فرماتے تھے‘ اِس پر یہود

تیسرے پارے کے شروع میں اس امر کا بیان ہے کہ اس حقیقت کے باوجودکہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبی اور رسول علیہم السلام معزز و مکرم ہیں اور ان کی شان بڑی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں ایک کیلئے دوسرے کے مقابلے میں فضیلت

دوسرے پارے کے آغاز میں سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے قبلے کی تبدیلی کا ذکر فرمایا ہے۔ مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فرض کیا تو ابتدائی طور پر مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ حضرت محمدؐ کی یہ

اس پارے میں دو سورتیں ہیں سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی 141 آیات۔ سورۃ الفاتحہ اگرچہ نزولی اعتبار سے بعد میں آتی ہے لیکن ترتیب کے اعتبار سے قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت ہے۔ سورۃ الفاتحہ کی بے انتہا فضیلت ہے، مفسرین نے

’’ماچس کی تیلی وہی جلتی ہے جس پر مصالحہ لگا ہو‘‘یہ ملتان کے ایک اخبار کے بڑے افسر کا کمرہ تھا ۔’’صاحب‘‘ نے میری سی وی پر دوبارہ ایک ا چٹتی سی نظر ڈالی اور بولے:’’ میں نے چیف رپورٹر سے پوچھا ہے، انہوں نے انکار



























