

جب کسی قوم کے بچے اپنے ہاتھوں میں قلم، بستہ اور کتابیں تھام کر مسکراتے ہوئے اسکول کی دہلیز پار کریں اور چند گھنٹوں بعد ان ہی معصوم پھولوں کے لاشے ملبے سے نکالے جائیں، تو یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ پوری ریاست، معاشرے اور

زندگی کے سفر میں ماضی کے جھروکوں سے جب پیچھے جھانک کر دیکھیں تو جہاں پیشہ ورانہ اتار چڑھاؤ نظر آتے ہیں، وہاں کئی ایسے واقعات بھی یاداشتوں کی سکرین پر ابھرتے ہیں جو ہمارے نظام کی اندرونی خرابیوں اور بیوروکریسی کے بگاڑ کی عکاسی کرتے

گزشتہ کالم میںمیرے اپنی شادی کے تذکرے پر ڈاکٹر اشفاق جسکانی صاحب نے کچھ خوبصورت یادیں تازہ کروائیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کس طرح اس دور میں دوستوں، جن میں ہمارے پیارے دوست مرحوم ڈاکٹر اجمل خان (جنہیں ہم محبت سے ‘لالا اجمل کہتے تھے)،

کسی بھی فلاحی اور پروقار ریاست کا اصل حسن اس کے نظامِ احتساب، کھلی شفافیت اور عوامی اعتماد کی پختگی میں جھلکتا ہے۔ ایک بااصول معاشرے کا تقاضا ہے کہ عوامی خزانے کی پائی پائی کا حساب صاف اور کھلی کتاب کی طرح عیاں ہو تاکہ

رورل ڈاکٹر آرگنائزیشن کا زمانہ 1986ء سے لیکر 1990ء تک کا ہے۔ اپنے گزشتہ دو کالموں میں صحافی برادری سے تعلق اور پھر خاص طور پر غضنفر علی شاہی مرحوم اور مسیح اللہ جامپوری صاحب کے حوالے جو کچھ لکھا ہے یہ اسی دور سے تعلق

غضنفر شاہی اور مسیح اللہ جامپوری صاحب سے اس دور میں اکثر ملاقات رہتی تھی۔ شاہی صاحب سے رات کو بھی کسی چائے خانے پر ملاقات ہو جاتی تھی۔ دونوں شخصیات نظریاتی پس منظر رکھتی تھیں اکثر بحث بھی ہو جا تی تھی۔ پیپلزپارٹی کے دور

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس ملتان کا یہ واقعہ محض ایک انتظامی تنازع نہیں، بلکہ ایک غریب اور محنت کش انسان کی عزت، روزی اور بقا کی جنگ کی کہانی ہے۔ کانسٹیبل محمد محسن جو سپیشل کوٹے پر بھرتی ہوا تھا، کسی بڑی نوکری یا طاقت کے

رورل ڈاکٹرز آرگنائزیشن، آر ڈی او کے پلیٹ فارم سے مختلف مواقع پر پریس کانفرنسز یا پریس ریلیز کے حوالہ سے ملتان کی صحافتی برادری سے میرے تعلقات کا آغاز ہوا تو مرحوم غضنفر شاہی، مرحوم ریحان برنی، مرحوم خان رضوانی، سلیم ناز صاحب، مسیح اللہ

ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات الحمدللہ مکمل ہو چکے ہیں جس میں فرینڈز آف ملتان نے کارپوریٹ اور ایسوسی ایٹ کلاس کی تمام 24 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ تاجر برادری نے جس طرح فرینڈز آف

1986ء میں میری ضلع ملتان واپسی ہوئی تو پہلی پوسٹنگ بنیادی مرکز صحت ملاں فقیر میں ہوئی۔ اس وقت میری طرح زیادہ تر ڈاکٹرز ہفتہ میں دو تین بار ہی ڈیوٹی پر جاتے تھے کیونکہ اس دور میں ڈاکٹر کی ماہوار تنخواہ تقریباً 33 سو روپے

جدید دور میں کسی بھی ریاست کے استحکام اور اس کے دیرپا وجود کی سچی دلیل وہ قلبی تعلق ہے جو عام شہری اور ریاستی اداروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جب ریاست کا نظام عام انسان کے دکھ درد کو اپنا سمجھے اور اس کے

کبھی کبھی سفر اتنا تھکا دینے والا نہیں ہوتا جتنا اس منزل کا تصور جو ہر موڑ کے بعد مزید دور چلی جائے۔ ہمارے دیہات اور قصبات میں بسنے والے لاکھوں چہروں کے لیے ریاست سے رابطہ کچھ اسی اذیت ناک سفر کی کہانی بن چکا

ملتان شہر، جو اپنی تاریخی اہمیت اور کاروباری شناخت کے لیے جانا جاتا ہے، آج ایک ایسے الیکشن کا گواہ ہے جو محض چیمبر آف کامرس کی نشستوں کا تعین نہیں کر رہا، بلکہ شہر کی کاروباری سیاست میں ایک نئی روایت کی بنیاد ڈال رہا

ملتان (شاہد صدیق)چیمبر آف کامرس ملتان کے انتخابات کے حوالے سے جاری سیاسی سرگرمیوں میں فرینڈز گروپ کے قائد مجید خان شادی خیل نے روزنامہ قوم سے خصوصی نشست کے دوران اپنے گروپ کے منشور، مستقبل کے منصوبوں اور ملتان کی تجارتی برادری کو درپیش چیلنجز

تحریر: یاسر مجیدطلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی جب ملتان کی گلیاں اور سڑکیں بیدار ہونا شروع ہوتی ہیں، تو 45 سالہ روشن مسیح اپنے جلے ہوئے ارمانوں اور معاشی بوجھ کے ساتھ گھر سے باہر قدم رکھتے ہیں۔ روشن مسیح، جو ایک مسیحی اقلیتی شہری ہیں،

جہاں یہ رواج ہو کہ کسی بھی سائل سے ڈیزل ڈلوا لو اور پرچی افسران کے سٹاف کو جمع کرا دو مگر پرچی کے پیسے نہ مانگو، جہاں یہ رواج ہو کہ تھانے کے اضافی خرچے اس تھانے کی حدود کے ناجائز فروش اور بدمعاش پورے

کسی صوبے کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس کے بڑے شہروں کی رونق سے نہیں کیا جا سکتا۔ اصل تصویر وہاں دکھائی دیتی ہے جہاں شہر ختم ہوتے ہیں اور دور دراز بستیاں شروع ہوتی ہیں۔ اگر ایک ہی صوبے کے کچھ علاقے ترقی کی دوڑ

کہتے ہیں کہ بھارت کی کسی دور افتادہ چند گھروں کی بستی پر ڈاکوئوں نے اس وقت حملہ کر دیا جب گاؤں کے سارے مرد تین دن کے لیے اجتماعی طور پر کسی یاترا پر گئے ہوئے تھے اور بستی میں خواتین اکیلی تھیں۔ وہ دور

ایک سرد شام میں چولستان کے علاقے کڈ والا بنگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک بکر وال (گڈریے) نے مجھے بتایا تھا کہ جب چولستان میں بارشیں ہوتی ہیں تو رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں اور ان پھولوں کو بکریاں بہت شوق سے کھاتی ہیں تو

شہرِ اقتدار، جس کی کل وسعت محض اٹھائیس کلومیٹر کے مختصر دائرے میں سمٹی ہوئی ہے، وہاں کا انتظامی انتشار ہمارے فرسودہ بیوروکریٹک ڈھانچے کی بے تدبیری اور زوال پذیری کا نوحہ سنا رہا ہے۔ جو نظام ایک محدود اور دارالحکومت جیسے حساس و مرکزی خطے

میاں صاحب، السلام علیکم، میں حرم پاک مکہ شریف میں ہوں۔ میاں صاحب، السلام علیکم، میں مدینے میں ہوں روضہ رسول کے سامنے کھڑا ہوں، آئیے میرے ساتھ دعا کر لیجئے، اس کا موبائل کیمرہ آن ہوتا تھا اور وہ گڑگڑا کر، رقت آمیزی میں ڈوب

پاکستان کے چار صوبوں کو 20 صوبوں یا انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر اگر عمل درآمد ہو گیا تو اس سے نہ صرف مرکز مضبوط ہو گا اس کی اس وقت اشد ضرورت ہے بلکہ این ایف سی کی گزشتہ دو دہائیوں سے

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی تعداد لگ بھگ 75 فیصد ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ پاکستانی مسلمان ہیں کیونکہ یہ اہل بیت سے بھی بہت عقیدت رکھتے ہیں اور خلفائے راشدین کا احترام بھی کرتے ہیں تاہم میرا مذہب بارے زیادہ

سرکاری سطح پر پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں کبھی گرم جوشی اور کبھی سرد مہری چلتی رہی ہے مگر انقلاب ایران کے بعد پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات میں موجودہ جنگ سے پہلے کبھی گرم جوشی کا موقع نہیں آیا۔ ایران میں امام

آئیے قارئین، اب کالموں کی اقساط کے سلسلے کے آخری اور تیسرے حصے میں ایران اور پاکستان کے درمیان 1947 سے لے کر آج تک کے تعلقات کو جانچتے ہیں۔ 1947 کے تھوڑا عرصہ بعد ہی پاکستان امریکی کیمپ میں شامل ہو گیا تھا۔ ایران اور

چین کی معاشی ترقی اور ایشیا میں پائی جانے والی ایسی معدنیات جو کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں، کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں سے یہ کہا اور مانا جاتا ہے کہ موجودہ صدی ایشیا کی ترقی کی صدی ہے۔میں پہلے بھی لکھ

وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، نسلیں جوان ہو جاتی ہیں مگر تاریخ کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کیلنڈر کے بدلنے سے نہیں بھرتے۔ مشرقی پنجاب بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں 1984ء کا آپریشن بلیو سٹار، اندرا گاندھی کا قتل،

مشرقی پنجاب میں بندوقوں کی گھن گرج آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی مگر خاموشی کے نیچے دفن ہونے والی کہانیاں ابھی زندہ تھیں۔ سڑکوں پر چیک پوسٹیں تھیں، دیہات میں خوف تھا، گھروں میں انتظار تھا اور ہزاروں خاندان ایسے تھے جن کے پیارے ایک

تاریخ صرف کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، کبھی وہ عدالتوں کی فائلوں میں دب جاتی ہے، کبھی کسی ماں کی آنکھوں میں جمے آنسوؤں میں زندہ رہتی ہے، کبھی کسی لاپتا شخص کے انتظار میں دروازے پر نظریں جمائے خاندان کی خاموشی میں سانس لیتی ہے

رسم شبیری(حکم اذاں) شیخ محمد فہم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اسرائیل اور امریکہ شاید ابھی ایران پر حملہ کرنے میں اتنی جلدی نہ کرتے مگر مودی کے دورہ اسرائیل کے اگلے روز ہی اسرائیل نے امریکہ کی آشیر باد سے ایران پر حملہ کر دیا اور اس





























