تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، جو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر منعقد ہوا، ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ لبنان پر مسلسل حملے نہ صرف غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ جاری سفارتی کوششوں کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران لبنانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کچھ عناصر امن معاہدوں کے حوالے سے مخلص نہیں ہیں۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ اگر خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے تو جنگ بندی معاہدوں کی مکمل پاسداری ناگزیر ہے۔
دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ترک صدر نے زور دیا کہ پاکستان میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ خطے میں مستقل امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق ایران، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ اور حساس ہیں۔







