امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملے جاری ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ امریکا، ایران اور ان کے اتحادی فوری طور پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل تھا۔ تاہم بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ لبنان اس جنگ بندی میں شامل نہیں ہے۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی افواج کی فضائی کارروائیاں جاری رہیں۔
مکابرہ میں فضائی حملہ کیا گیا، جبکہ خیام میں شدید توپ خانے کی گولہ باری دیکھی گئی، جہاں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری رہی ہیں۔
اسی طرح جنوبی شہر تائر میں بھی متعدد فضائی حملے کیے گئے، جن میں ایک حملہ ایک اسپتال کے قریب ہوا، اور یہ حملہ امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی سے خارج کرنا اور حملوں کا سلسلہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ صورتحال جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری اس تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔







