ریاض کی جانب سے ایران کو وارننگ، حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج

ریاض: سعودی عرب نے ایران کو سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے خلاف اس کا صبر لامحدود نہیں ہے، اور اگر خلیجی ممالک پر حملے فوری طور پر بند نہ کیے گئے تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
مملکت نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی وقت فوجی کارروائی کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ امید ہے ایران آج کے پیغام کو سمجھ چکا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کی بجائے دباؤ کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے، مگر یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوگی اور الٹا نقصان دہ ثابت ہوگی۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سعودی عرب کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور ایران پر جو معمولی اعتماد باقی تھا وہ حالیہ حملوں کے بعد ختم ہو چکا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے جواز ناقابل قبول ہیں، اور ان حملوں کے نتائج یقینی طور پر سامنے آئیں گے جبکہ ایران کی علاقائی تنہائی میں اضافہ ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق، 28 فروری سے ایران نے ریاض، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جنہیں تہران نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل کے طور پر ظاہر کیا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق، حالیہ حملوں میں ریاض کی جانب سے داغے گئے چار بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے، جبکہ سعودی فضائی دفاعی نظام اب تک 457 سے زائد ڈرونز، 40 بیلسٹک میزائل اور 7 کروز میزائل ناکام بنا چکا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں