خدا کا بندہ خدا سے جا ملا، اسرائیلی حملے میں علی لاریجانی شہید

ایران کی طاقتور سیاسی اور سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی اسرائیل کے فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ اسی حملے میں ملک کی اندرونی سکیورٹی کے اہم کمانڈر اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے دونوں رہنماؤں کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی ریجانی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک پیغام جاری کیا جس میں لکھا: “خدا کے بندے خدا سے جا ملے۔”
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے تہران کے ایک خفیہ ٹھکانے پر علی لاریجانی کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق علی لاریجانی اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے تہران کے مشرقی علاقے میں موجود تھے، اور اس حملے میں ان کا بیٹا مرتضٰی بھی شہید ہو گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہید علی لاریجانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نمایاں اور قیمتی شخصیت تھے، جنہوں نے مختلف عہدوں پر اہم خدمات انجام دیں اور وسیع تجربہ رکھتے تھے۔
صدر کے مطابق، علی لاریجانی نے خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے اہم کوششیں کیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، علی لاریجانی ایران کے عملی طور پر ڈی فیکٹو لیڈر تھے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد انہوں نے ملک کی قیادت سنبھال رکھی تھی۔ اسرائیل نے ان کی شہادت کو ایرانی حکومت کے خلاف اپنے منصوبے کا حصہ قرار دیا تھا۔
مزید برآں، ایک اور علیحدہ اسرائیلی حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی ہلاک ہو گئے، جو ملک کی اندرونی سکیورٹی کے اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہوتے تھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں