آٹا 6 ہزار من، غریب کا چولہا بُجھ گیا، گندم سے کاشتکار کو فائدہ ملا نہ عوام مستفید ہو سکے

ملتان(سروے رپورٹ: منصور عباس )پنجاب میں رواں سیزن کے دوران کسانوں سے تقریباً 3000 روپے فی من کے حساب سے خریدی گئی گندم کا فائدہ نہ کاشتکار کو ملا اور نہ ہی عام شہری کو۔ دوسری جانب ملتان میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے دیہاڑی دار مزدوروں، محنت کشوں اور کم آمدن والے ہزاروں خاندانوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ کم نرخوں پر خریدی گئی تھی تو پھر آٹے کی قیمت 140 سے 150 روپے فی کلو تک کیسے جا پہنچی، اور اس بھاری فرق سے آخر فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟شہر کے مختلف علاقوں کینٹ، نواں شہر، الطاف ٹاؤن، جلیل آباد، ایم ڈی اے، عزیز ہوٹل، امیر آباد، کمہار منڈی اور دیگر مقامات پر متعدد آٹا چکیوں سے معلوم ہوا کہ فائن اور مکس آٹا تقریباً 140 روپے جبکہ صاف گندم کا آٹا 150 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس حساب سے ایک من آٹے کی قیمت 5600 سے 6000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں صاف گندم کی دستیابی بھی محدود ہو رہی ہے، جس سے مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور متعلقہ محکمے مؤثر کارروائی کرتے دکھائی نہیں دیتے، جس کے باعث بیشتر آٹا چکیوں پر من مانے نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔شہری عون رضا نے کہا کہ مارکیٹ سے غائب ہوتی جا رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو غریب آدمی کے لیے روٹی خریدنا بھی خواب بن جائے گا۔ حکومت فوری طور پر ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔جہانگیر احمد نے کہا حکومتی پالیسی بنانے والوں کو ایک ماہ کے لیے صرف 25 ہزار روپے میں زندگی گزارنے کا تجربہ کرنا چاہیے۔ اسی رقم سے گھر کا کرایہ، بجلی، گیس، دودھ، راشن، بچوں کی فیس اور موٹرسائیکل کا پٹرول پورا کر کے دکھائیں، پھر انہیں اندازہ ہوگا کہ عام آدمی کس کرب سے گزر رہا ہے۔ اگر آٹے کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو لاکھوں خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں رہے گی۔عاصم بھٹہ نے مطالبہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر روزانہ کی بنیاد پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو فیلڈ میں متحرک کریں، آٹا چکیوں کی باقاعدہ چیکنگ کی جائے اور گراں فروشی یا سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔محمد ناصر نے کہا روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اگر آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے اور فاقوں کی نوبت آ جائے گی۔جاوید اقبال نے کہادن بھر محنت کر کے صرف دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر پاتے ہیں، لیکن آٹے کی مسلسل بڑھتی قیمتیں غریب کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین رہی ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو مزدور طبقہ زندہ رہنے کی بنیادی ضرورت بھی پوری نہیں کر سکے گا۔ولیم عزیز نے کہاحکومت کو چاہیے کہ آٹا مافیا، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کریک ڈاؤن کرے، کیونکہ جب تک مؤثر کارروائی نہیں ہوگی، مہنگائی کا یہ طوفان نہیں رکے گا۔عامر علی نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ غریبوں پر رحم کریں، روٹی کو عام آدمی کی پہنچ سے دور نہ ہونے دیں۔ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو سستی اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائے۔ اگر روٹی ہی غریب کی دسترس سے باہر ہو گئی تو یہ معاشرے کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال ہوگی۔شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ خوراک اور متعلقہ ادارے فوری طور پر آٹا چکیوں کی سخت مانیٹرنگ کریں، سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں