ملتان(عوامی رپورٹر)حکومت پنجاب کی گندم خریداری پالیسی کے منفی اثرات سامنے آنے لگ گئے۔10لاکھ میٹرک ٹن کی درآمدکے فیصلے سمیت ملکی گندم کی نئی ریلیز پرائس 3800روپے من جبکہ پاسکوسے4150روپے من میں فوری خریداری کی ہدایت کردی گئی۔تفصیل کےمطابقپنجاب میں گندم کی نئی ریلیز پرائس 3800 روپے فی 40 کلو گرام مقرر کردی گئی۔گندم کی نئی قیمتوں کے اطلاق کا فوری ہوگا۔ترجمان محکمہ فوڈ سیفٹی کےمطابق پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد گندم کی ریلیز پرائس کا نیا ریٹ جاری کیا گیا۔نوٹیفکیشن محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا۔وفاق نےحکومت پنجاب کو پاسکو سے گندم کی خریداری کی فوری ہدایتکردی۔پنجاب کو گندم کی 3 لاکھ میٹرک ٹن فراہمی کی منظوری دے دی گئی۔محکمہ فوڈ سیفٹی پنجاب پاسکو سے 2 لاکھ میٹرک ٹن گندم پہلے ہی حاصل کر چکا ہے۔پاسکو سے گندم کی فی 40 کلوگرام قیمت 4150 روپے مقررکی گئی ہے۔ای سی سی کے 28 جنوری 2026 کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت کردی گئی۔ترجمان کے مطابق صوبہ میں آٹے اور گندم کی مسلسل اور بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کیا گیا۔پاسکو سے گندم کی فراہمی سے صوبہ میں آٹا وافر اور قیمت مستحکم ہوگی اور روٹی کی فراہمی 15 روپے میں یقینی بنائی جائے گی ۔وفاقی وزارت غذائی تحفظ کے مطابقحکومت پنجاب کی 8 لاکھ میٹرک ٹن مانگ کے مقابلے میں 5 لاکھ 33 ہزار 440 میٹرک ٹن گندم مختص کی گئی۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ نے حکومتِ پنجاب کو خریداری شیڈول اور ایڈوانس ادائیگی فوری جمع کرانے کا حکم دیدیا۔واضح رہےکہ حال ہی میں 10لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمدکیلئے تمام ڈیوٹیزاورٹیکسزختم کرکے چندکمپنیوں کوفائدہ پہنچانے کافیصلہ کیاگیا۔صوبے کے لاکھوں کسان رل گئے مگردرآمدی گندم سے چندکاروباری گھرانوں کوفائدہ ہوگا۔دوسری جانب ماہرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ نگران دورمیں درآمدکی گئی گندم بھی مہنگی اورغیرمعیاری تھی ۔رمضان المبارک میں سستے آٹے کے نام پرعوام کووہ غیرمعیاری گندم کھلادی گئی اس باربھی اسی طرح کی صورتحال کاخدشہ ہے۔







