پاکستان کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک زراعت پر ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ شعبہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے، پانی کی قلت، مہنگے زرعی مداخل، کمزور مارکیٹنگ نظام اور محدود ٹیکنالوجی کے باعث مطلوبہ ترقی حاصل نہیں کر سکا۔ ایسے میں گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) ایک ایسا منصوبہ بن کر سامنے آیا ہے جو زرعی شعبے میں جدیدیت، خود کفالت اور پائیدار ترقی کے نئے امکانات پیدا کر رہا ہے۔
جی پی آئی کے تحت جدید زرعی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، اسمارٹ فارمنگ اور سیٹلائٹ نگرانی جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں زراعت تیزی سے ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو رہی ہے اور پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ روایتی طریقوں سے نکل کر جدید سائنسی بنیادوں پر کاشتکاری کو فروغ دے۔ اس منصوبے کے ذریعے کسانوں کو جدید معلومات، موسمی حالات کی پیشگی آگاہی اور فصلوں کی بہتر نگہداشت کے حوالے سے رہنمائی مل رہی ہے، جس سے پیداوار بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
قابلِ اطمینان بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت صرف زرعی پیداوار ہی نہیں بلکہ کسانوں کی سہولت اور فلاح پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ گرین ایگری مالز کا قیام ایک مثبت پیش رفت ہے جہاں کھاد، بیج، زرعی ادویات اور جدید مشینری ایک ہی جگہ مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ اس سے کسانوں کے وقت، محنت اور اخراجات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ پاکستان کے چھوٹے اور متوسط درجے کے کسان ہمیشہ سے مہنگی زرعی اشیا اور غیر معیاری سامان کے مسئلے کا شکار رہے ہیں، اس لیے ایسی سہولیات ان کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔
جی پی آئی کی ایک اور اہم جہت بنجر زمینوں کی بحالی اور زرعی سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ پاکستان میں لاکھوں ایکڑ اراضی ایسی موجود ہے جو مناسب منصوبہ بندی اور جدید آبپاشی نظام کے ذریعے قابلِ کاشت بنائی جا سکتی ہے۔ اگر ان زمینوں کو زرعی پیداوار کے دائرے میں لایا جائے تو نہ صرف غذائی خود کفالت کو فروغ ملے گا بلکہ زرعی برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہوگا۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دیہی معیشت کو مضبوطی ملے گی۔
پنجگور اور دیگر پسماندہ علاقوں کے کسانوں کی جانب سے اس منصوبے کو سراہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ زمینی سطح پر اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس کامیابی کو پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ منصوبے میں شفافیت، مقامی آبادی کی شمولیت اور کسانوں کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے۔ شمسی توانائی، جدید آبپاشی نظام اور زرعی قرضوں کی آسان فراہمی جیسے اقدامات بھی ساتھ ساتھ کیے جائیں۔
پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلیوں اور غذائی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں گرین پاکستان انیشی ایٹو محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ زرعی خود کفالت اور قومی خوشحالی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس منصوبے کو مستقل مزاجی، شفافیت اور قومی ترجیحات کے مطابق آگے بڑھائے تاکہ کسان خوشحال ہوں، دیہی معیشت مضبوط ہو اور پاکستان غذائی تحفظ کے میدان میں ایک مضبوط اور خود کفیل ملک بن سکے۔






