ملتان (خصوصی رپورٹ): قادِرپور راواں کے مین بازار میں آج صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں 10 سالہ معصوم موسیٰ مبینہ طور پر ٹریکٹر ٹرالی تلے آ کر جاں بحق ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بچہ گھر سے سامان لینے نکلا تھا کہ تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی نے اسے کچل دیا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ قادِرپور راواں میں ٹریکٹر ٹرالیوں کی بے قابو آمدورفت معمول بن چکی ہے۔ شہریوں کے مطابق متعدد جانیں ضائع ہونے اور بارہا شکایات کے باوجود اس مسئلے پر مؤثر کارروائی نہیں کی جا سکی، جس کے باعث عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر کب تک معصوم بچے سڑکوں پر موت کا شکار ہوتے رہیں گے؟ کیا شہریوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ اگر ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جاتا، بازاروں میں ہیوی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی نافذ ہوتی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جاتی تو شاید آج ایک اور خاندان اپنے لختِ جگر سے محروم نہ ہوتا۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، کمشنر ملتان، آر پی او، سی ٹی او اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور قادِرپور راواں سمیت تمام شہری علاقوں میں ٹریکٹر ٹرالیوں کی غیر قانونی اور غیر محفوظ آمدورفت کے خلاف فوری اور مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ مزید قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔







