ملک میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں 10 سی سی سرنج پر عائد پابندی کو طبی ماہرین نے نومولود اور بچوں کے علاج کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (نٹاگ) کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد شفیع نے ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ہنگامی خط ارسال کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 10 سی سی سرنج پر مکمل پابندی بچوں، بالخصوص نومولود مریضوں کے علاج میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ 10 سی سی سرنج بچوں کو ادویات کی درست مقدار فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم طبی آلہ ہے، جبکہ این آئی سی یو (NICU) اور بچوں کے وارڈز میں اس کا مؤثر متبادل دستیاب نہیں۔
ڈاکٹر محمد خالد شفیع نے خبردار کیا کہ اس پابندی کے باعث نومولود بچوں کو غذائی فراہمی اور ادویات کی بروقت ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغیر سوئی والی 10 سی سی سرنج بچوں کو مائع ادویات دینے کے لیے معمول کے طبی آلات میں شامل ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ مکمل پابندی کے بجائے شواہد کی بنیاد پر متوازن ریگولیٹری فیصلہ کیا جائے اور بچوں کے علاج کے لیے مخصوص استثنا دیا جائے تاکہ علاج کا عمل متاثر نہ ہو۔
خط میں ڈریپ کو ماہرین پر مشتمل مشاورتی کمیٹی قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ انفیکشن کنٹرول کے اقدامات اور مریضوں کے علاج کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد شفیع نے زور دیا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام یقیناً ضروری ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ایسے فیصلے نہیں ہونے چاہییں جو نومولود اور بچوں کے علاج میں رکاوٹ کا سبب بنیں۔ انہوں نے ڈریپ سے فوری مشاورت اور پابندی کے دائرہ کار پر نظرثانی کی اپیل بھی کی۔







