10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ

ملک میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں 10 سی سی سرنج پر عائد پابندی کو طبی ماہرین نے نومولود اور بچوں کے علاج کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (نٹاگ) کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد شفیع نے ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ہنگامی خط ارسال کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 10 سی سی سرنج پر مکمل پابندی بچوں، بالخصوص نومولود مریضوں کے علاج میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ 10 سی سی سرنج بچوں کو ادویات کی درست مقدار فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم طبی آلہ ہے، جبکہ این آئی سی یو (NICU) اور بچوں کے وارڈز میں اس کا مؤثر متبادل دستیاب نہیں۔
ڈاکٹر محمد خالد شفیع نے خبردار کیا کہ اس پابندی کے باعث نومولود بچوں کو غذائی فراہمی اور ادویات کی بروقت ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغیر سوئی والی 10 سی سی سرنج بچوں کو مائع ادویات دینے کے لیے معمول کے طبی آلات میں شامل ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ مکمل پابندی کے بجائے شواہد کی بنیاد پر متوازن ریگولیٹری فیصلہ کیا جائے اور بچوں کے علاج کے لیے مخصوص استثنا دیا جائے تاکہ علاج کا عمل متاثر نہ ہو۔
خط میں ڈریپ کو ماہرین پر مشتمل مشاورتی کمیٹی قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ انفیکشن کنٹرول کے اقدامات اور مریضوں کے علاج کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد شفیع نے زور دیا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام یقیناً ضروری ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ایسے فیصلے نہیں ہونے چاہییں جو نومولود اور بچوں کے علاج میں رکاوٹ کا سبب بنیں۔ انہوں نے ڈریپ سے فوری مشاورت اور پابندی کے دائرہ کار پر نظرثانی کی اپیل بھی کی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں