پاکستان کی قیادت قابلِ احترام، ٹرمپ نے ایک بار پھر تعریفوں کے پل باندھ دیے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کے حوالے سے مثبت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ملکی قیادت کو قابلِ احترام سمجھتے ہیں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں باصلاحیت اور قابلِ قدر شخصیات ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایک اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ ممکنہ جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی شامل تھی۔
ان کے مطابق یہ صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی تھی اور جوہری تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، تاہم بروقت سفارتی کوششوں سے حالات کو کنٹرول کر لیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کشیدگی کے دوران 11 طیارے تباہ ہوئے، لیکن بروقت مداخلت کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
ٹرمپ کے مطابق پاکستان کی قیادت نے بھی اس عمل کو سراہا اور اسے لاکھوں جانیں بچانے کے مترادف قرار دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گی اور جلد اس کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔
انہوں نے ایران کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران سنجیدہ ہے تو فون پر بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے اندر مختلف آرا موجود ہیں، کچھ مذاکرات کے حق میں ہیں جبکہ کچھ سخت مؤقف رکھتے ہیں، تاہم امید ہے کہ دانشمندی کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
ایٹمی پروگرام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کا اہم حصہ ہے اور امریکہ اس پر مؤثر کنٹرول چاہتا ہے۔
عالمی طاقتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے چین کے کردار کو بہتر قرار دیا لیکن کہا کہ وہ مزید مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر نیٹو نے امریکہ کا مکمل ساتھ نہیں دیا، جبکہ برطانیہ کی بعد میں پیشکش کو بھی انہوں نے غیر مؤثر قرار دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں