روزنامہ قوم بنا جنوبی پنجاب کی آواز، نشتر ہسپتال کی نجکاری کا فیصلہ ٹل گیا

ملتان (نامہ نگارخصوصی)روزنامہ قوم بناجنوبی پنجاب کے عوام کی آواز،روزنامہ قوم اورگیلانی خاندان کی کاوشوں کے باعث نشترہسپتال کی نجکاری کافیصلہ ٹل گیا،تحریک التواپرعلی حیدرگیلانی کے سوال کے جواب میں حکومت نے نجکاری کی تردیدکردی۔پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری برائے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب مسز راشدہ لودھی نے واضح کیا ہے کہ حکومتِ پنجاب کا نشتر میڈیکل کالج یا نشتر ہسپتال کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا نہ کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی منصوبہ زیرِ غور ہے۔ایوان میں رکنِ صوبائی اسمبلی سید علی حیدر گیلانی کی جانب سے پیش کی گئی تحریکِ التوا کے جواب میں گفتگو کرتے ہوئے مسز راشدہ لودھی نے کہا کہ“محکمۂ صحت پنجاب کا نشتر میڈیکل کالج یا نشتر ہسپتال کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا نہ کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تجویز یا منصوبہ زیرِ غور ہے۔انہوں نے کہا کہ نشتر میڈیکل کالج اور نشتر ہسپتال عوامی فلاح کے اہم ادارے ہیں اور حکومت ان اداروں کو سرکاری سطح پر ہی چلانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔پارلیمانی سیکرٹری نے مزید کہا کہ حکومت نشتر ہسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری اور مریضوں کو معیاری علاج کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور عوامی اداروں کے بارے میں غلط تاثر پھیلانا مناسب نہیں۔ایوان میں حکومتی وضاحت کے بعد تحریکِ التوا نمٹا دی گئی۔قبل ازیں روزنامہ قوم نے تین جنوری کوخبرشائع کی تھی کے حکومت نشترہسپتال کونجی شعبہ کے حوالے کرنے کامنصوبہ بنالیا۔اورملتان کے ایک معروف صنعتی گروپ کے ساتھ خاموشی سے معاملات طے کیے جارہے ہیں۔اس حوالے سے روزنامہ قوم میں خبرشائع ہونے پررکن صوبائی اسمبلی سیدعلی حیدرگیلانی نے فوری طورپرپنجاب اسمبلی میں کال اٹینشن نوٹس جمع کروایا،چیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی سید علی حیدر گیلانی نے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے معاملے پر تحریکِ التواء پنجاب اسمبلی میں پیش کی ہے، جس میں مطالبات کے مطابق مالیاتی اور انتظامی تاخیر کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ ان کے علم میں یہ معاملات نہیں تھے۔ روزنامہ قوم نے یہ بہت بڑی خدمت کی ہے اور ہم گیلانی خاندان کے پلیٹ فارم سے ہر فورم پر جنوبی پنجاب کے اس عظیم ترین منصوبے کو بچانے کے لیے آواز بلند کریں گے اور ایسا کسی بھی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ یہ عوامی فلاح و بہبود کا منصوبہ ہے جو گزشتہ 70 سال سے عوام کی خدمت کر رہا ہے اور میں نے جو معلومات حاصل کی ہیں ان کے مطابق یہاں سے ایم بی بی ایس کرنے والوں کا پہلا بیچ 1957 میں نکلا تھا گویا گزشتہ 69 سالوں میں یہاں سے طب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے اور ان سب سابق طلبا و طالبات کی اس کالج کے ساتھ روحانی و جذباتی وابستگی ہے ۔پھر یہ واحد ہسپتال ہے جو پنجاب کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے مریضوں کے لیے علاج کی سہولیات گزشتہ 70 سال سے فراہم کر رہا ہے گویا یہ ہسپتال نہیں بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں کے اشتراک کی اور محبت کی ایک منفرد اکائی ہے جسے کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج بھی بلوچستان، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک ،لکی مروت سمیت کے پی کے کے متعدد علاقوں کے لوگ اور سندھ کے علاقوں کشمور ،کندھ کوٹ، بھگشا پور ،ڈہرکی ،گھوٹکی اور اوباڑو سمیت متعدد اضلاع کے سینکڑوں مریض یہاں سے مسلسل 70 سال سے شفا یاب ہو رہے ہیں۔ رہا پنجاب کا معاملہ تو میانوالی سے لے کر جھنگ تک اور ملتان سے ساہیوال اور رحیم یار خان تک لاکھوں لوگوں کو یہ ہسپتال طبی سہولیات فراہم کرتا ہے اس لیے اسے نجی شعبے کے شکنجوں سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں