اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان مختلف بیماریوں کے بوجھ کے حوالے سے تیزی سے سنگین صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملک ہر بیماری میں “نمبر ون” بننے کی طرف جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صحت نے جینیٹک پالیسی کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی اور جدید طبی رپورٹس کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ صحت کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ 2030 تک پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی آبادی والا ملک بن جائے گا، جبکہ معاشی بحران اور بڑھتے ہوئے بیماریوں کے بوجھ کو کوئی بھی ملک آسانی سے برداشت نہیں کر سکتا۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق ملک میں اس وقت صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہے اور ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کا شعبہ قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے اور موجودہ نظام بیماریوں کے بوجھ کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کے قابل نہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت جینیوم پروفائلنگ اور جدید اسکریننگ سسٹم کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ تھیلیسیمیا جیسے امراض کی روک تھام کے لیے شادی سے قبل ٹیسٹ کو لازمی بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اسکریننگ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں اور ہر سال اربوں روپے صرف ان بیماریوں کے علاج پر خرچ ہو رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایک ماہ کے اندر نئی جینیٹک پالیسی سامنے آ جائے گی جس کا مقصد بیماریوں کی بروقت تشخیص اور روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔







