فواد چوہدری اور اسد عمر کی میڈیا سے گفتگو، حکومت پر شدید تنقید

لاہور: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کی جا رہی ہے، مگر حکومت کی طرف سے اس پر مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھا کر باضابطہ شکایت درج کرائی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر مسئلے کا حل طاقت نہیں ہوتا، تاہم جو عناصر بندوق اٹھاتے ہیں ان سے اسی زبان میں نمٹا جانا چاہیے، جبکہ اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات ضروری ہیں۔
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست جاری ہے لیکن اس کا نقصان ملک کو ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ سیاسی نظام اب عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور اس میں تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف مسلسل پانچواں بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں جو ایک غیر معمولی صورتحال ہے، اور ان کے بقول انہیں اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود حکومتی کارکردگی بہتر نہیں ہو رہی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم وقت کی ضرورت ہے، اور اگر نئے صوبے نہیں بنائے جاتے تو عوام کو گمراہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترے گا، تاہم اگر حکومت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں تو یہ ملک کے لیے بہتری کی علامت ہو سکتی ہے۔
اس موقع پر سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ بجٹ پیش کر رہے ہیں ان کی مجموعی کارکردگی کیا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف ذوالفقار علی بھٹو کے بعد وہ دوسرے رہنما بننے جا رہے ہیں جو مسلسل بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی معیشت کی رفتار آبادی کی شرح سے بھی کم ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری گزشتہ 50 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جو معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
اسد عمر نے مزید کہا کہ آج ملک میں اہم مقدمات انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی سطح پر ہونے والی زیادتیوں کا بھی اسی طرح احتساب ہونا چاہیے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنے والا بجٹ ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کے اثرات کے تحت ہوگا، جبکہ حکومت نے ٹیکس پالیسی میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں غریب طبقہ زیادہ بوجھ برداشت کر رہا ہے، کیونکہ عام شہری سے بھی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے لیوی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جبکہ سابق دور میں بعض ٹیکسوں میں کمی کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے کہ کون سی حکومت بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔
اسد عمر نے بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف خطوں میں جنگی حالات پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستان کو ان تنازعات سے الگ رہ کر اپنی پالیسی بنانی چاہیے۔
دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت میں 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات کی سماعت بھی ہوئی، جس میں علیمہ خان، عظمیٰ خان، اسد عمر، فواد چوہدری اور اعظم سواتی سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے تمام ملزمان کی عبوری ضمانت میں 9 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر فریقین سے دلائل طلب کر لیے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں