اسلام آباد:بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان جاری ہتکِ عزت کیس میں سپریم کورٹ نے اہم پیشرفت کرتے ہوئے عمران خان کا حقِ دفاع بحال کر دیا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس دوران حقِ دفاع ختم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست پر غور کیا گیا۔
سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نظرثانی درخواست میں کوئی واضح قانونی نکتہ پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی عدالتی فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی کی گئی۔
وکیل کے مطابق جولائی 2017 میں شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، تاہم جواب جمع کرانے میں تاخیر ہوئی اور متعدد مواقع پر التوا لیا گیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران مختلف مراحل پر دلائل میں بتایا گیا کہ ترمیمی جواب اور انٹیروگیٹری کے جواب میں بھی تاخیر ہوئی، جبکہ مختلف سماعتوں پر التوا کی درخواستیں دی جاتی رہیں۔
دوسری جانب عدالت نے ریمارکس دیے کہ ترمیمی جواب جمع ہونے کے بعد بھی قانونی کارروائی میں تاخیر دیکھنے میں آئی۔
بعد ازاں کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی، اور شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔







