امریکا اور ایران کشیدگی میں اضافہ؛ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اوپر چلی گئیں

واشنگٹن / عالمی منڈی: امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی منڈی میں نمایاں ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خطے کی صورتحال اور توانائی کی سپلائی سے متعلق بڑھتے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے خام تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 2.30 ڈالر (2.47 فیصد) اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں 2.60 ڈالر (2.89 فیصد) اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد یہ 92.63 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچی۔
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی کاروباری سیشن کے دوران امریکی خام تیل کے فیوچر میں بھی 3 ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا بحری نقل و حمل متاثر ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، جس کے عالمی معیشت پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں