ملتان ( سیدقلب حسن سے) شہرِ اولیاء میں جہاں ایک طرف چوکوں، شاہراہوں اور بیوٹیفکیشن منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، وہیں 14 نمبر چونگی سے جنرل بس سٹینڈ کی طرف جانے والی مرکزی سڑک گزشتہ پانچ برس سے ادھوری پڑی ہےاور یہ ادھورا پن اب شہریوں کے لیے وبالِ جان بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق 14 نمبر چونگی سے وہاڑی چوک تک ریلوے پھاٹک فلائی اوور کی تعمیر قانوناً شروع تو کی گئی مگر چار سال سے نہ کوئی ٹھیکیدار نظر آتا ہےنہ کوئی کمپنی، نہ ہی کام کی کوئی رمق۔ سڑک کھنڈر بن چکی ہے، جگہ جگہ گڑھے، مٹی، دھول اور اکھڑی ہوئی سڑک نے علاقے کو کھلی اذیت گاہ بنا دیا ہے۔’’قوم‘‘سروےمیں گفتگوکرتےہوئے اس روڈ پر واقع تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں۔ جنرل بس سٹینڈ کی جانب جانے والی اس شاہراہ پر موجود دکانیں ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق گھروں کی قیمتیں آدھی سے بھی کم ہو چکی ہیں، لوگ علاقے چھوڑ کر منتقل ہونے پر مجبور ہیں کیونکہ نہ تو بڑی گاڑیاں آ سکتی ہیں اور نہ ہی گاہک۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مٹی اور گردوغبار اس قدر ہے کہ سانس کی بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔رکشہ اور بسیں اس لیے نہیں آتیں کہ گاڑیوں کے ایکسل ٹوٹ جاتے ہیں، ٹائر پھٹ جاتے ہیں۔ شہریوں کے مطابق یہ سڑک اب سہولت نہیں بلکہ عذاب بن چکی ہے۔ شہری حلقوں میں سوال اٹھ رہا ہے کہ جب پورا ملتان خوبصورتی کے نام پر سجایا جا رہا ہے، چوکوں اور چوراہوں کو گرا کر دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے، تو چلنے پھرنے کی بنیادی سہولت کیوں نظر انداز ہے؟ یہ سڑک نہ صرف ایک بڑی مارکیٹ سے جڑی ہے بلکہ یہاں سے ہیوی ٹریفک اور کنٹینرز گزرتے ہیں۔خاص طور پر کپڑے کی بڑی منڈیوں کی سپلائی اسی راستے سے ہوتی ہے۔ علاقہ مکینوں اور تاجروں نے حکومتِ پنجاب، ہائی وے حکام، کمشنر ملتان، سی ایم ملتان اور وزیرِاعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خدارا اس سڑک کی تعمیر فوراً شروع کی جائے، ہمیں بیماریوں اور معاشی تباہی سے بچایا جائے۔ ملتان کی ترقی تبھی معتبر ہوگی جب خوبصورتی کے ساتھ شہریوں کا راستہ بھی ہموار ہو۔







