کسی بھی یکطرفہ اقدام سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

بغداد: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ اقدام سے خطے کی موجودہ صورتحال مزید پیچیدہ اور کشیدہ ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی عراق کے دورے پر بغداد پہنچے، جہاں انہوں نے عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ ہونے والی مفاہمت سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔
فواد حسین نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عراقی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کا سلسلہ جاری رہا تو پورا خطہ سنگین تباہی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بغداد کا دورہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے نئی عراقی حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران، عراق کے ساتھ تعاون، دوطرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات بھی اپنے عراقی ہم منصب سے شیئر کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ رکاوٹیں ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آ جائے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آئندہ 30 روز تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں رہے گی، اس کی نگرانی اور انتظام ایران کے پاس ہے، اور کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدام خطے میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں