بھارتی آرمی چیف کی جانب سے “سندور 2 کے حوالے سے دیا گیا حالیہ بیان ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ دنیا کے سب سے حساس اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والے خطوں میں شمار ہونے والے جنوبی ایشیا میں ایسے بیانات نہ صرف سیاسی اور سفارتی حلقوں میں بحث کو جنم دیتے ہیں بلکہ خطے کے کروڑوں عوام کے اندر بھی تشویش پیدا کرتے ہیں۔
بھارتی عسکری قیادت کا یہ مؤقف کہ جدید جنگی ماحول میں کوئی بھی نقل و حرکت مکمل طور پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی، بلاشبہ ایک حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نگرانی، ڈرونز، سائبر وارفیئر اور انفارمیشن آپریشنز نے جنگ کے روایتی تصورات کو بدل دیا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بیانات دفاعی تیاریوں تک محدود ہیں یا ان کے پس پردہ سیاسی مقاصد بھی کارفرما ہیں؟
یہ امر قابل غور ہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کو اندرونی اور بیرونی سطح پر متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ معاشی مسائل، بے روزگاری، سماجی تقسیم، اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تنقید اور بعض ریاستوں میں سیاسی بے چینی ایسے عوامل ہیں جو حکومتی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ ماضی میں بھی دنیا کے مختلف ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات داخلی دباؤ سے توجہ ہٹانے کے لیے قومی سلامتی اور عسکری معاملات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
دفاعی حکمت عملی کسی بھی خودمختار ریاست کا حق ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار واضح مقاصد، حقیقت پسندانہ اہداف اور ذمہ دارانہ طرز عمل پر ہوتا ہے۔ جب عسکری معاملات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنایا جاتا ہے تو اس سے دفاعی اداروں کی غیر جانبداری اور پالیسی سازی کے عمل پر سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری معاشروں میں دفاعی اور سیاسی دائرہ کار کے درمیان توازن کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی ہے۔
پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ دونوں ممالک ماضی میں کئی جنگوں، سرحدی کشیدگیوں اور سفارتی بحرانوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ اس پس منظر میں کسی بھی قسم کا جارحانہ یا اشتعال انگیز بیانیہ پورے خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے عوام غربت، موسمیاتی تبدیلی، صحت، تعلیم اور معاشی ترقی جیسے بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ان حالات میں جنگی ماحول پیدا کرنا یا عسکری محاذ آرائی کو فروغ دینا کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک ذمہ داری، تدبر اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں۔ سفارتی روابط، مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات ہی پائیدار امن کا راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔ جنگ اور تصادم کے امکانات بڑھانے والے بیانات وقتی سیاسی فوائد تو دے سکتے ہیں، لیکن ان کے طویل المدتی نتائج پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کو اس وقت جنگی نعروں سے زیادہ امن، ترقی اور تعاون کی ضرورت ہے۔ یہی راستہ خطے کے عوام کی خوشحالی، استحکام اور بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔






