جارحانہ رویہ ٹرمپ کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرے گا، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ جارحیت کی صورت میں امریکا کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حکومت کے بعض عہدیدار زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی تمام تر توجہ آئندہ صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض عناصر حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں اور موجودہ حالات کا درست اندازہ لگانے کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جس جارحانہ طرزِ عمل کی حمایت کی جا رہی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنے مطلوبہ معاہدے کے لیے کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ سے گریز کی بات کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید بڑی فوجی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکزیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ابھی مکمل نقصان نہیں پہنچا اور وہ مزید وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکنہ نئی کارروائیاں مبینہ “آپریشن ایپک فیوری” سے بھی زیادہ شدت کی ہو سکتی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں