خیرپورسادات (نامہ نگار)ستھرا پنجاب پروگرام کے ملازمین عید بونس تو درکنار، تنخواہوں سے بھی محروم، نوبت فاقوں تک جا پہنچی۔ ستھرا پنجاب علی پور میں ورکروں کی تذلیل ناقابلِ برداشت، دو ماہ سے تنخواہیں بند، HR کے مبینہ ناروا رویے پر شدید غم و غصہ ستھرا پنجاب علی پور میں ورکروں کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والی بدسلوکی اور دو ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے ملازمین کو شدید ذہنی اور معاشی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ ورکروں کا الزام ہے کہ HR انس رضوان نہ صرف انہیں توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں بلکہ مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کرکے ان کی تذلیل بھی کرتے ہیں، جو کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کے لیے شرمناک اور ناقابلِ قبول عمل ہےورکروں کا کہنا ہے کہ وہ سخت دھوپ، گرمی اور نامساعد حالات میں دن رات شہر کی صفائی کے لیے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں، مگر انہیں عزت دینے کے بجائے مبینہ طور پر ذلیل کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب دو ماہ سے تنخواہیں بھی ادا نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث متعدد ملازمین کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے، بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ورکروں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، الزامات کی شفاف انکوائری کرائی جائے، اگر توہین آمیز رویہ ثابت ہو تو ذمہ دار افسر کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے، اور تمام بقایا تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں۔ورکر کسی کے غلام نہیں، بلکہ اس معاشرے کے باعزت شہری ہیں۔ ان کی عزتِ نفس مجروح کرنے والوں کا احتساب اور ان کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ستھرا پنجاب منصوبے کے ملازمین عید بونس تو درکنار، اپنی ماہانہ تنخواہوں سے بھی تاحال محروم ہیں، جس کے باعث ورکروں اور ان کے اہلِ خانہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ مسلسل تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث متعدد مزدوروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے، جبکہ بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ملازمین کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران نے گزشتہ روز تنخواہیں فوری جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر اس کے باوجود ابھی تک ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق عید کے بعد سے وہ ادھار لے کر اپنے گھروں کے اخراجات پورے کرتے رہے، لیکن اب قرض دینے والوں نے بھی تقاضے شروع کر دیے ہیں، جس سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ورکروں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ستھرا پنجاب منصوبے کے ملازمین کے لیے سوشل سیکیورٹی کارڈ، راشن کارڈ اور دیگر فلاحی مراعات کے اعلانات کیے گئے تھے، تاہم تاحال ان وعدوں پر عملی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔متاثرہ ملازمین نے وزیراعلیٰ پنجاب، متعلقہ حکام اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بقایا تنخواہیں فوری طور پر جاری کی جائیں، عید بونس ادا کیا جائے اور اعلان کردہ تمام فلاحی سہولیات پر جلد از جلد عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ غریب مزدوروں کو مزید معاشی بدحالی اور فاقوں سے بچایا جا سکے۔







