تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 55 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 645 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 55 ہو گئی ہے۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ صوبہ خوزستان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں ہلاکتوں اور زخمیوں کی سب سے زیادہ اطلاعات موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ ہرمزگان اور سیستان و بلوچستان میں بھی متعدد افراد متاثر ہوئے۔
ایرانی حکام کے مطابق زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج مکمل ہونے کے بعد اسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا، جبکہ کچھ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھروں کو روانہ کر دیا گیا۔
وزارتِ صحت کے مطابق اس وقت 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کو مزید طبی کارروائی اور سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
ایرانی حکومت نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور مناسب ردعمل دے۔
دوسری جانب خبر فائل کیے جانے تک امریکا کی جانب سے ایران کے ان دعوؤں یا ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان معلومات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کی انسانی اور سکیورٹی صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔







