10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

ایئر کنڈیشنر کی چھٹی! بجلی کے بغیر گھروں کو ٹھنڈا رکھنے والا نیا ماحولیاتی مواد تیار

ماہرین نے ایک نیا حیرت انگیز مواد ایجاد کیا ہے جو ایئر کنڈیشنر یا پنکھے کے بغیر گھروں کو ٹھنڈا رکھ سکتا ہے۔ اس ایجادات سے توانائی کی بچت ممکن ہوگی اور یہ ماحول دوست متبادل بھی فراہم کرتا ہے۔
چین کی Dalian University of Technology اور امریکہ کی Pennsylvania State University کے ماہرین نے مشترکہ تحقیق کے دوران یہ مواد تیار کیا ہے۔ ان کا مقصد بڑھتی ہوئی گرمی کی لہر اور توانائی کے بحران کے دوران گھروں کو سستا اور پائیدار طریقے سے ٹھنڈا رکھنا تھا۔
یہ مواد Polymethyl Methacrylate (PMMA) پر مبنی ہے اور “Passive Radiative Cooling” کے اصول کے تحت کام کرتا ہے، یعنی دن کے وقت سورج کی حرارت کو روکتا ہے اور رات میں عمارت سے حرارت کو خلا میں خارج کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس کے استعمال سے بغیر بجلی کے درجہ حرارت تقریباً 8.4° سینٹی گریڈ (15.1°F) تک کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ مواد سستا اور موجودہ تعمیراتی ڈھانچوں میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔
ایئر کنڈیشنرز کے مقابلے میں یہ بجلی کی کھپت صفر رکھتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کے باعث ماحول دوست بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر اس قسم کے متبادل کی عالمی سطح پر ضرورت ہے۔
اگر یہ مواد بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے تو توانائی کی کھپت میں کمی اور گھریلو اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں تقریباً دو ارب افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں ایئر کنڈیشننگ مہنگی یا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس ایجاد کو “مستقبل کی کولنگ ٹیکنالوجی” قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں