10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

آلو کی برداشت سے متعلق سفارشات جاری 

پنجاب کے میدانی علاقوں میں موسم خزاں میں کاشت کی جانے والی آلو کی فصل کی برداشت 15 فروری تک یعنی بوائی کے 100 تا 120 دن کے بعد کی جاتی ہے۔آلو کی برداشت کا مرحلہ بہت اہم گردانا جاتا ہے کیونکہ اس کی معیاری پیداوار کے حصول پر کاشتکار کی ساری محنت کا دارومدار ہوتا ہے۔ اس مرحلہ پر کسی قسم کی سستی یا کوتاہی سے پیداوار میں کمی کے علاوہ کوالٹی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کاشتکار آلو کی برداشت اور سنبھال کے دوران فصل اس وقت برداشت کریں جب بیلیں پیلی ہونی شروع ہو جائیں اور زمین پر گرنے لگیں۔ آلو کی بیلیں برداشت سے 15 روز قبل کاٹ کر وٹوں کے اوپر ڈالنے سے آلو کی فصل تیلے اور وائرس کے اثرات سے محفوظ ہوجاتی ہے اور تیار آلو کی جلد بھی سخت ہو جاتی ہے۔  ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ آلو کی برداشت سے 15 دن قبل فصل کو پانی لگانا بند کردیں تاکہ زمین میں زیادہ نمی برداشت کے دوران مشکلات پیدا نہ ہوسکیں اور برداشت کیے ہوئے آلو کے ساتھ زیادہ مٹی چپکنے کا باعث اس کی کوالٹی بھی خراب نہ ہوسکے۔ فصل کی برداشت صبح کے وقت کرنی چاہیے جب درجہ حرارت نسبتاً کم ہو کیونکہ زیادہ درجہ حرارت پر آلو کے گلنے سڑنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ برداشت شدہ آلو کی فصل کو زیادہ دیر تک دھوپ میں نہ پڑے رہنے دیا جائے بلکہ اس کو جلدی سایہ دار جگہ پر منتقل کر دیا جائے۔آلو ٹوکریوں میں ڈال کر ڈھیر پر منتقل کرتے وقت ٹوکریوں کو زور سے نہ پھینکا جائے تاکہ آلو چوٹ لگنے سے محفوظ رہ سکیں اور زخمی نہ ہوں۔ 

شیئر کریں

:مزید خبریں