

گھر میں بھوک کا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ تین دن سے چولہا ٹوٹا ہوا تھا، اور کسی کے منہ میں روٹی تک نہیں تھی۔ ندیم کی بیوی بیمار تھی، لیکن وہ کوئی علاج نہیں کروا پا رہا تھا۔ گھر کی حالت ایسی تھی کہ جب تک

قائداعظم محمد علی جناح نے 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کا خواب دیکھا تھا جس میں انصاف، مساوات، اور خوشحالی ہو۔ ان کا خواب تھا کہ پاکستان میں ہر فرد کو آزادی، عزت، اور برابر کے حقوق حاصل ہوں

ایک بڑے ہال میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے بیٹھے ہیں۔ دونوں طرف کی نشستوں پر گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے لوگ، جو ایک دوسرے کو کمر سے کمر لگا کر دیکھ رہے ہیں، لیکن درمیان میں ایک دیوار کھڑی ہے — ایک دیوار جو برسوں

ناز اکاڑوی بلا شبہ نئی اختراعات نے جہاں زندگی آسان اور باہمی تعلقات کو سمیٹ کر رو بہ رو کر دیا ہے جیسے موبائل سے دور دراز کے دوست احباب سے ملاقات اب سیکنڈوں کی بات ہو کر رہ گئی ہے، یعنی ایک ہی لمس سے

نا زاو کاڑوی ایک عرصہ سے سوانح عمری پڑھنے کا اشتیاق تھا اور اب بھی ہے۔ دوست احباب سے مشورے بھی لیے انہوں نے نام بھی بتائے۔ شہاب نامہ اولین میں سے تھا جسے پڑھنے کا اتفاق ہوا، جوش ملیح آبادی کی یادوں کی بارات ،

مغرب میں اسلام کے حوالے سے جو عمومی تاثر پایا جاتا ہے، وہ ہمیشہ سے متنازع اور پیچیدہ رہا ہے۔ خاص طور پر دینی مدارس کے حوالے سے مغربی دنیا کی سوچ میں انتہاپسندی، دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کا تاثر غالب آتا ہے۔ مدارس

انتظامی اعتبار سے جنوبی پنجاب کے اہم ترین شہر ملتان سے صرف 22 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع تاریخی قصبہ مخدوم رشید مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔ کہیں کسان بلبلاتے دکھائی دیتے ہیں تو کہیں مریض۔ کہیں مسائل کے بھنور میں دھنسے شہری نوحہ کناں

مدارس کے رجسٹریشن ایکٹ 2024 پر ریاست اور مذہبی قوتوں کے درمیان تنازع ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام نے اس قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کروایا، لیکن صدر آصف زرداری نے اس پر دستخط کرنے سے
اپنی بھارت یاترا کے حوالے سے کالموں کی سیریز کی آخری قسط 3 جولائی 2024ء کو شائع ہوئی جس میں منو بھائی کے کالم گریبان بعنوان ’’ دل دریا سمندروں ڈونگے‘‘ جو کہ 12 جنوری 1980ء کو شائع ہوا اسے من وعن دوبارہ بطور حوالہ میں

پاکستان کی سیاسی اور معاشی حقیقتوں پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کی حکومتی پالیسیاں ہمیشہ ہی مختلف طبقوں کے مفادات کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہیں، اور ان پالیسیوں میں اکثر عوام کے حقیقی مسائل اور ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا

سماجی حقیقت نگاری ادب کی وہ صورت ہے جو انسانی زندگی کے حقیقی مسائل، ان کی پیچیدگیوں اور داخلی و خارجی تضادات کو ایک آئینے کی طرح قاری کے سامنے پیش کرتی ہے۔ یہ صنفِ ادب انسان کے اندر چھپے جذبات، اس کے معاشرتی تعلقات، اور

سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) ایکٹ 2024، پاکستان میں مدارس اصلاحات کے نازک لیکن اہم مسئلے پر سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تنازع کا باعث بن گیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی حمایت سے منظور کیے گئے اس بل کو تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر صدر مملکت

’’یار جب ساڑھےگیارہ، 12 بجے زوال کے وقت کاروبار کھولو گے تو عروج کیسے حاصل ہوگا‘‘بابا جی نے یہ کہہ کر تھوڑا توقف کیا اور بولے ’’آپ دنیا میں کامیاب لوگوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو، وہ کم کھاتے، کم سوتے اور کم بولتے تھے۔

تحریر:غلام دستگیر ( دست بدست ) آپ ملتان میں چونگی نمبر 9 سے کچہری چوک کی طرف آئیں تو پہلا چوک چونگی نمبر 8آتا ہے ۔چوک عبور کرتے ہی نظر تھوڑا اوپر اٹھائیں تو فلائی اوور کے ستون پر موٹے موٹے حروف میں لکھا ہوا نظر

چند ماہ ’’جہان پاکستان‘‘ کی سیاحی بھی کی مگر آگے صحافت کا راستہ تاریک اور بے روزگاری کی دلدل پھر سے تیار کھڑی تھی۔2001 میں کورونا کے رونا کے دوران بے روزگاری بھی کاٹی اور غریب الوطنی بھی برداشت کی۔ لاہور جا کر بھی دوسری بار’’دنیا‘‘

سورہ الم نشرح قرآن پاک کی 94 ویں سورہ ہے۔اس سورہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے پیارے محبوب حضرت محمدؐ سے مخاطب ہے جب آپؐ مشکل حالات سے گزررہے تھے۔ اس سورہ کی آیت نمبر 5 میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے ’’بیشک مشکل کےساتھ آسانی ہے‘‘۔اگلی آیت

تحریر؛ محمد عامر حسینی بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں 2001ء میں سرائیکی ریسرچ سنٹر کا قیام عمل میں آیا- اس کا ڈائریکٹر شعبہ اردو کے اس وقت کے سربراہ ڈاکٹر انوار احمد کو مقرر کیا گیا- اس تقرری پر سرائیکی وسیب کے شاعروں اور ادیبوں نے

عوامی میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم یا ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کو معیاری معلومات، تفریح، اور تعلیم فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یہ میڈیا کسی خاص تجارتی یا سیاسی مفاد سے آزاد ہوتا ہے اور عوام کے اجتماعی مفاد کو اولین ترجیح دیتا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں احتجاج ہمیشہ ایک متنازعہ اور اہم مسئلہ رہا ہے۔ خاص طور پر جب سیاسی جماعتیں یا اہم شخصیات اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر آتی ہیں تو اس کا اثر پورے نظام پر پڑتا ہے۔ 24 نومبر 2024 کو ہونے والے

(میاں غفار )روزنامہ قوم ملتان۔۔۔ منگل 15 اکتوبر 2024 کار جہاں۔ قسط اول میرے دفتر کا کمرہ لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ دونوں فریق موجود ہیں۔ ایک فریق اکیلی عورت پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرے فریق کیلئے اضافی کرسیاں بھی کم پڑ گئیں تو کچھ لوگوں

(آخری قسط) (تحریر: میاں غفار احمد (کار جہاں پاکستان میں ہر کسی کا اپنا اپنا “اوپر والا” ہے۔ ایوب خان کے دور میں ایک پیر صاحب بہت مشہور تھے۔ ان کا پوٹھوہار سے تعلق تھا۔ وہ سفر کے دوران کسی بھی جگہ اچانک ڈرائیور کو فوری

چیمپئنز ٹرافی ایک ایسا ایونٹ ہے جس کی اہمیت کرکٹ کی دنیا میں بہت زیادہ ہے۔ جہاں یہ ایونٹ کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک بڑے اور تاریخی موقع کی حیثیت رکھتا ہے، وہیں اس کے انعقاد کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈز

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 24 نومبر کو فائنل احتجاج کا اعلان کیا ہے، جو پاکستان کی سیاست میں ایک نیا تنازع پیدا کر سکتا ہے۔ اس فیصلے کی عجلت اس کے ممکنہ نتائج اور پارٹی کے اندرونی اختلافات پر ایک گہرا تجزیہ ضروری

پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت ہمیشہ سے متنازعہ اور پیچیدہ رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں جس طرح سے حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف انتقامی سیاست کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنایا ہے، وہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر چکا ہے۔

اسلامی تاریخ میں جنگ قادسیہ کو ایک نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس نے مسلمانوں کو ایران کے سرزمین پر قدم جمانے کا موقع فراہم کیا اور ان کی فتوحات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ 636 یا 637 عیسوی میں

کرکٹ دنیا کا ایک مقبول ترین کھیل ہے جو قوموں کو جوڑنے اور ان کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مختلف ٹورنامنٹس جیسے ورلڈ کپ اور چیمپیئنز ٹرافی کھیل کے معیار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات
(ضرب قلم)تحریر؛عبدالحنان راجہ کراچی روشنیوں کا شہر ویسے ہی نہیں کہلاتا برقی قمقموں کی روشنیاں اگر آنکھوں کو خیرہ کرتی ہیں تو نظارے مسحور. سندھ کی سر زمین زرخیز اور باسی مہمان نواز اور کریم. اگر اس کی سونا اگلتی زمینوں کو ہوس بنجر نہ کرے

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ ایک پیچیدہ مسئلہ رہے ہیں، جس پر عوامی سطح پر مختلف خیالات اور قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان اور امریکہ کے تعلقات

ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی سیاست میں واپسی نے دنیا بھر میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ ان کی پالیسیوں اور غیر روایتی انداز کی وجہ سے عالمی سیاست میں کئی ممالک کے لیے نئے چیلنجز اور مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں بھی

رات کے 12 بج کر 45 منٹ ہوچکے تھے۔ اکتوبر کی 24 تاریخ ہوئے پورے 45 منٹ گزر گئے تھے ۔ میرے موبائل پر تہینتی ایس ایم ایس ، وٹس ایپ میسجز ، وائس میسجز کا ایک سیلاب امنڈ آیا تھا- ایسے میں فیس بک میسینجر



























