ویانا: عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق ایران اور امریکا جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت مختلف حساس معاملات کا جائزہ لینے کے لیے وقت فراہم کیا جا سکے گا۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ادارہ ایران اور امریکا دونوں سے رابطے میں ہے، تاہم وہ براہِ راست مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران، چین اور روس کے نمائندوں نے ویانا میں گروسی سے مشترکہ ملاقات بھی کی، جو موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
ادارے کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محدود رسائی کے باعث ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی مکمل تصدیق ممکن نہیں رہی، جس سے جوہری پھیلاؤ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پاتا ہے تو ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر سے ملاقات ان کے لیے باعثِ اعزاز ہوگی۔ ان کے مطابق ایران وینزویلا جیسا ملک نہیں اور امریکا صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے۔
امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں، جن میں عمان کے نام پر گیس فروخت، ایل پی جی برآمدات اور مبینہ شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے عمان پر ایران سے سفارتی تعلقات محدود کرنے کے لیے بھی دباؤ بڑھایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیج عمان میں کشیدگی کے دوران امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں تبدیلی دیکھی گئی، تاہم امریکی فوج نے کسی بڑے واقعے کی تردید کی ہے۔
سینٹکام کے مطابق خطے میں کشیدگی کے آغاز کے بعد متعدد تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں عمان کے آئل ٹرمینل پر دھماکوں کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے میں استعمال ہونے والے امریکی اڈے ان کے لیے جائز ہدف تصور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض علاقائی ممالک نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں کردار ادا کیا ہے، جس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث لاکھوں افراد خوراک کے بحران کے خطرے سے دوچار ہیں۔







