

پانچویں پارے کے شروع میں محرماتِ قطعیہ کے تسلسل میں یہ بھی بتایا کہ جب تک کوئی عورت کسی دوسرے شخص کے نکاح میں ہے‘ اس سے نکاح حرام ہے، یہاں تک کہ اگر شوہر نے طلاق دے دی ہو تو عدت کے اندر نکاح اور

چوتھے پارے کی پہلی آیت میں بیان ہوا کہ نیکی کا مرتبۂ کمال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ رسول اللہ ؐاونٹ کا گوشت کھاتے تھے اور اونٹنی کا دودھ نوش فرماتے تھے‘ اِس پر یہود

تیسرے پارے کے شروع میں اس امر کا بیان ہے کہ اس حقیقت کے باوجودکہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبی اور رسول علیہم السلام معزز و مکرم ہیں اور ان کی شان بڑی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں ایک کیلئے دوسرے کے مقابلے میں فضیلت

دوسرے پارے کے آغاز میں سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے قبلے کی تبدیلی کا ذکر فرمایا ہے۔ مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فرض کیا تو ابتدائی طور پر مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ حضرت محمدؐ کی یہ

اس پارے میں دو سورتیں ہیں سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی 141 آیات۔ سورۃ الفاتحہ اگرچہ نزولی اعتبار سے بعد میں آتی ہے لیکن ترتیب کے اعتبار سے قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت ہے۔ سورۃ الفاتحہ کی بے انتہا فضیلت ہے، مفسرین نے

’’ماچس کی تیلی وہی جلتی ہے جس پر مصالحہ لگا ہو‘‘یہ ملتان کے ایک اخبار کے بڑے افسر کا کمرہ تھا ۔’’صاحب‘‘ نے میری سی وی پر دوبارہ ایک ا چٹتی سی نظر ڈالی اور بولے:’’ میں نے چیف رپورٹر سے پوچھا ہے، انہوں نے انکار
1999 کی ایک بھیانک یاد آج بھی عبرت بن کر میرے دل و دماغ میں تازہ ہے۔ اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور آج کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف نے مقبرہ جہانگیر کے لیے ایک علیحدہ راستہ بنانے کا حکم صادر فرمایا۔ ایک شاہی

سالوں بعد رات کے آخری پہر میں اچانک خیال آیا کہ ملتان کے قومی اخبارات کے ریزیڈنٹ ایڈیٹرز/ سٹیشن ہیڈز کون کون سے لوگ رہ چکے ہیں اور کون کون ان دنوں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ پھر سوچا کہ کب سے یعنی کتنے برسوں
میں گزشتہ تین روز سے لاہور میں ہوں اور بدھ کے روز مجھے لاہور کے علاقے کریم پارک و شفیق آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ کبھی یہ بہت پرامن علاقے تھے مگر گزشتہ تین دہائیوں سے ان علاقوں میں غنڈہ گردی عروج پر پہنچی ہوئی تھی،
شرافت، بردباری، عاجزی، انکساری، ایمانداری، وضعداری، حسن اخلاق اور سچائی کا آخری قطب مینار بھی رخصت ہوا۔ دور حاضر میں پاکستان کے کونے کونے میں چراغ لے کر بھی ڈھونڈیں تو میاں محمد اظہر جیسا ایماندار شخص نہیں ملے گا۔ لوگ ان کی سٹیل مل کا
نظام قدرت کا ادراک رکھنے والے ماہرین پہاڑی ندی نالوں، دریاؤں اور پوٹھوہاری علاقوں کے آبی چینلز کوہ سلیمان کی رودکوہیوں کے راستوں میں پڑے ہوئے گول پتھروں کو پہاڑوں کے انڈے کہتے ہیں اور ان کا موقف یہ ہوتا ہے کہ یہ انڈے کسی بھی

پاکستان کو قدرت نے ہر طرح کے موسموں سے نوازا ہے۔ گرمی، سردی، خزاں ، بہار کے علاوہ برسات کا موسم بھی یہاں پوری آب و تاب کے ساتھ وارد ہوتا ہے۔ یوں تو سارا سال ہی وقتاً فوقتاً بارشیں ہوتی رہتی ہیں لیکن 15جولائی سے
اسی (80) کی دہائی میں فیروز پور روڈ لاہور پر واقع کیمپ جیل کے عقب میں جنرل ضیا الحق کے دور میں ایک عارضی پھانسی گھاٹ بنوا کر لاہور سے اغوا کے بعد قتل ہونے والے پپو نامی ایک معصوم بچے کے تین قاتلوں کو سرعام
سابق گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ نے 65 سال قبل 1960 میں غنڈہ ایکٹ نافذ کیا تب نہ تو دہشت گردی تھی نہ ہی جدید اسلحہ عام لوگوں کے پاس تھا، تب بڑے سے بڑا اسلحہ خنجر ہی ہوتا تھا
کالم کی ابھی دوسری قسط ہی شائع ہوئی ہے کہ میرے سامنے ڈمی اخبارات کا ایک ڈھیر پڑا ہے جن میں ہزاروں عدالتی اشتہار جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع کی عدالتوں سے ایسے اخبارات میں شائع شدہ ہیں جن کا کوئی سرے سے وجود ہی نہیں۔
گراس روٹ لیول کی کرپشن نے اس ملک کا نظام تباہ و برباد کرکے رکھا ہوا ہے اور اس ملک کے اعلیٰ ترین افسران بھی کلیریکل مافیا کے حصار سے باہر نہیں نکل سکے۔ میں نے اپنی زندگی میں درجنوں معاملات ایسے بھی دیکھے کہ افسران
میرے سامنے قاسم اور فاطمہ نامی دو بزرگ سید بیٹھے ہوئے ہیں یہ دونوں آپس میں بہن بھائی ہیں، فاطمہ بیوہ اور ایک طلاق یافتہ سید زادی کی بے آسرا ماں ہے اور قاسم اس کا چھوٹا بھائی۔ حیران کن طور پر بے بسی اور کرب

اسرائیل نے تکبر میں آکر ایران کے خلاف جنگ چھیڑ تو دی مگر ایران کے مضبوط ترین حملوں میں اسرائیل کی تباہی اور دجالی دارالحکومت میں ملبوں کے ڈھیر نے اسرائیل کو جلد اس بات سے آگا ہ کر دیا کہ حالات اُن کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں

اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ اور پھر ایران کا بھرپور جواب، اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ایرانی ایک دلیر قوم ہیں، ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کی بڑی طاقتیں اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہوں، اسے اسلحہ سمیت ہر طرح کی

جمعہ کی شب اسرائیل نے ایران کو جوہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر مشرق وسطی کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل دیا ہے۔ مسلم امہ اس وقت شدید مشکل صورت حال سے دو چار ہے اور خطے کا چوہدری بننے کی خواہش لئے

منگل کے روز وفاقی حکومت نے سال 2025 اور 26 کیلئے بجٹ کا اعلان کیا ۔ بجٹ تقریر کے دوران مجھے کسی کام سے تھوڑی دیر کیلئے باہر نکلنا پڑا۔ سڑکیں ویران نظر آئیں۔ ٹریفک کا بہائو انتہائی کم تھا۔ ہو کے عالم کی کیفیت تھی
کہتے ہیں کہ اپنے اردگرد کے ماحول کو عورت کی نظر سے دیکھو کیونکہ جو قدرتی نفاست اللہ تبارک و تعالی نے عورتوں میں رکھی ہے وہ مردوں میں کہاں اور رہا وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کا معاملہ تو اس حوالے سے ان کے

وفاقی حکومت نے سال 2025-26 کیلئے مجموعی طور پر 17 ہزار 573 ارب روپے کا حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 16 ہزار 286 ارب روپے ہوگا۔پیش کئے گئے

صفائی نصف ایمان ہے ۔ عیدالاضحی سال 2025 میں ملتان شہر کو جس طرح آلائشوں اور گندگی سے صاف رکھا گیا ہے یقینی طور پر وہ ملتان کی ڈویژنل اورضلعی انتظامیہ اس پر خراج تحسین کی مستحق ہے۔ ورنہ چند سال پہلے اگر عید ایام میں

کہتے ہیں کہ جب اللہ تبارک و تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی تو زمین کے کونے کونے سے مختلف اقسام کی مٹی جمع کروائی اور پھر ہر کیفیت، ہر رنگ اور ہر قسم کی مٹی سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق

ہر سال 3 مئی کو عالمی سطح پر یوم آزادی صحافت منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں صحافیوں کو درپیش مسائل، چیلنجز، قربانیوں اور آزادی اظہار رائے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ یہ دن اس حقیقت کو یاد دلانے کا موقع
چند سال پرانی بات ہے ایک وفاقی وزیر سے اکثر و بیشتر گپ شپ رہا کرتی تھی۔ خاصے کھلے ڈلے آدمی تھے اور لگی لپٹی رکھے بغیر بات کر جاتے تھے۔ ان کی وزارت میں افسران کی اکھاڑ پچھاڑ لگی رہتی تھی۔ ایک دن میں نے

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔ حضرت خولہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت

سورۃ الاحقاف: اس سورہ میں ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا تاکیدی حکم ہے اور ماں نے حمل اور وضعِ حمل کے دوران جو بے پناہ مشقتیں اٹھائیں‘ ان کا ذکر ہے اور یہ بھی بتایا کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ

سورہ حم السجدہ:اس پارے کی ابتدا میں بتایا کہ قیامت‘ شگوفوں سے نکلنے والے پھلوں‘ حمل اور وضع حمل کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ انسان کی فطری خود غرضی کو آیت 49 میں بیان کیا کہ انسان اپنی بھلائی کی دعا مانگتے


















