ایک سو ایک سالہ سالہ سلائی مشین اور ہجرت

پنجاب کی جامعات: خودمختاری یا ٹھیکیداری (آٹھویں قسط)

گزشتہ قسط میں ترقیاتی منصوبوں، مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کی کمزوریوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی مگر اس پورے نظام کی ایک اور نہایت تشویشناک جہت وہ ہے جو براہِ راست انسانی وسائل یعنی تقرریوں، تربیت، اور انتظامی ذمہ داریوںسے جڑی ہوئی ہے۔
ہمارے ہاں جامعات میں ایک خطرناک رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے جسے’’ایڈیشنل چارج‘‘ (Additional Charge) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اہم اور قانونی نوعیت کی اسامیوں۔ جنہیں اسٹیچوٹری پوسٹس کہا جاتا ہے، پر مستقل اور اہل افراد تعینات کرنے کے بجائے عارضی طور پر کسی بھی افسر کو اضافی ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف قواعد و ضوابط کی روح کے منافی ہے بلکہ ادارہ جاتی کارکردگی کے لیے بھی زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسٹیچوٹری عہدےجیسے رجسٹرار، کنٹرولر آف ایگزامینیشنز، یا خزانچی، انتہائی حسا س نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان کے لیے مخصوص مہارت، تجربہ اور مکمل توجہ درکار ہوتی ہے۔ مگر جب ایک ہی شخص کو متعدد عہدوں کا اضافی چارج دے دیا جائے تو وہ کسی ایک ذمہ داری کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے، انتظامی امور سست روی کا شکار ہوتے ہیں اور جوابدہی کا نظام تقریباً مفلوج ہو جاتا ہے۔
پھر جب سپریم کورٹ آف پاکستان کی بھی واضح ہدایات موجود ہیں کہ چھے ماہ سے زائد ایڈیشنل چارج نہ دیا جائے۔ پھر بھی 14,14 سال تک یونیورسٹی انتظامیہ کا ڈھٹائی پر قائم رہنا اور پھر گورنر پنجاب کو ایک ہی شخص کی ایڈیشنل چارج کی سمری 14 سال تک بھیجتے رہنا اس تعلیمی نظام کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے نہ تو کسی باقاعدہ تربیت کا نظام موجود ہے اور نہ ہی میرٹ کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بااثر افراد کوجو مطلوبہ مہارت اور تجربے سے محروم ہوتے ہیں، صرف تعلقات یا دباؤ کی بنیاد پر ان عہدوں پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پیشہ ورانہ معیار کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسٹیچوٹری پوسٹس پر ایڈیشنل چارج دینے کی روایت کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ ہر اہم عہدے پر باقاعدہ، مستقل اور اہل فرد کی تعیناتی یقینی بنائی جائے جو اپنی ذمہ داریوں کو مکمل وقت اور توجہ دے سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازمی قرار دیا جائے کہ کسی بھی تقرری سے قبل متعلقہ فرد کو کم از کم تین سے چھ ماہ کی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے جو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) یا ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے زیرِ اہتمام ہو۔
یہ تربیت محض رسمی کارروائی نہ ہو بلکہ اس میں گورننس، مالیاتی نظم و نسق، قانونی تقاضوںاور جدید تعلیمی انتظامیہ کے اصولوں کو شامل کیا جائےتاکہ تعینات ہونے والا افسر اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں نبھا سکے۔ دنیا بھر کی کامیاب جامعات میں کسی بھی اعلیٰ انتظامی عہدے پر تعیناتی سے قبل باقاعدہ تربیت اور اہلیت کا سخت معیار مقرر ہوتا ہےاور یہی وہ ماڈل ہے جسے ہمیں اپنانا ہوگا۔
اگر ہم نے اس اہم مسئلے کو نظر انداز کیا تو نہ صرف گورننس کے مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے بلکہ اداروں میں نااہلی، اقربا پروری، اور بدانتظامی کا کلچر مزید مضبوط ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر میرٹ، تربیت، اور پیشہ ورانہ مہارت کو بنیاد بنایا جائے تو جامعات نہ صرف انتظامی طور پر مستحکم ہوں گی بلکہ تعلیمی میدان میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
آخر میں ایک اور اہم سوال: کیا ہم اپنی جامعات کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں، یا انہیں وقتی مفادات اور غیر سنجیدہ فیصلوں کے حوالے کیے رکھنا چاہتے ہیں؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں