ملتان میں 300 بھانے، راؤ رفیع کی منتھلی لیکر کھلی چھوٹ، مریم نواز کے احکامات کی دھجیاں

ملتان (رپورٹ: شاہد صدیق) میونسپل کارپوریشن ملتان میں تعینات سکیل 12 کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ راؤ رفیع نے مبینہ طور پر بھانوں کی شہر سے باہر منتقلی کے حکومتی احکامات کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا جس سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شہروں کو صاف ستھرا بنانے کا پلان ستھرا پنجاب خواب بن کر رہ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق شہر میں تقریباً 300 بھانے کام کر رہے ہیں۔ راؤ رفیع نے ان بھانوں کی شہر سے باہر منتقلی کے نام پر منتھلی کے روپ میں بھاری رقوم وصول کرنا شروع کر دیں۔ اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں کرپشن میں میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ افسران بھی اس کے پارٹنر ہیں جس نے حکومتی احکامات کی روح کو پامال کر دیا ہے۔پنجاب حکومت نے پنجاب صفائی (بھانہ) ہٹاؤ اور انتظامیہ ایکٹ 2025 کے تحت بھانوں کو شہری علاقوں سے باہر منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔اس ایکٹ کے تحت میونسپل کارپوریشنز کو بھانوں کو شہر کے اندر جانور پالنے، چرنے اور انسانی صحت کے لیے خطرناک سرگرمیوں سے روکنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ مزید برآںپنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت میونسپل کارپوریشنز کے چیف آفیسر کو بھانے کے انتظام اور ان کی منتقلی کی ذمہ داری سونپی گئی ہےتاہم راؤ رفیع نے ان احکامات کو اپنی ذاتی آمدنی کا ذریعہ بنا لیا، جس سے حکومتی پالیسیوں کا مقصد خاک میں مل گیا ہے۔سب سے چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ سکیل 12 کے افسر راؤ رفیع کو غیر قانونی طور پر گریڈ 17 کے اختیارات حاصل ہیں جس نے قانونی ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ پنجاب سول سروسز ایکٹ 1974 کے تحت سرکاری ملازمین کی درجہ بندی اور ان کے اختیارات کا تعین کیا جاتا ہے۔اسی طرح، پنجاب سول سروسز (تعیناتی اور ملازمت کی شرائط) قواعد 2023 کے تحت بھی کسی افسر کو اس کے اصل گریڈ سے زیادہ کے اختیارات دینے کی گنجائش موجود نہیں ہےقانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 اور سروس رولز کے تحت اتنی بڑی گریڈ چھلانگ کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ انہوں نے اس عمل کو انتظامی اور قانونی دونوں لحاظ سے انتہائی مشکوک قرار دیا ہے۔راؤ رفیع پر مویشی منڈی سامورانا میں نام نہاد جگا ٹیکس وصول کرنے کے الزامات بھی عوامی طور پر سامنے آئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس نے مختلف عوام الناس سے لاکھوں روپے وصول کیے لیکن مبینہ طور پر انہیں خزانے میں جمع نہیں کروایا۔واضح رہے کہ حال ہی میں انسداد بدعنوانی ادارے (ACE) ملتان نے میونسپل کارپوریشن ملتان میں کرپشن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا،جن میں چیف آفیسر اور اعلیٰ صوبائی بیوروکریٹس بھی شامل تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کے سب سے اہم انتظامی ادارے میں مالی بددیانتی عام ہو چکی ہے۔ادھر وزیراعلیٰ پنجاب نے ستھرا پنجاب پروگرام میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن پر 12 افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صفائی کا منصوبہ محض کاغذوں تک محدود رہ گیا ہے، جبکہ زمینی حقیقت انتہائی مایوس کن ہے۔جب مذکورہ الزامات کے بارے میں راؤ رفیع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ کسی بھی قسم کے تبصرے سے گریز کرتے رہے۔واضح رہے کہ انسداد بدعنوانی ادارہ پنجاب نے صوبے بھر میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھا ہے اور حال ہی میں 253 سرکاری ملازمین اور نجی سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں گریڈ 19، 18 اور 17 کے بدعنوان افسران بھی شامل تھے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ راؤ رفیع کے خلاف فوری طور پر انسداد بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا جائے اور اس کی جانب سے وصول کی گئی رقوم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی جائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں