ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان کی ایک سرکاری یونیورسٹی میں 30 اپریل 2026 کو منعقد ہونے والے ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ (ASRB) کے اجلاس سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اجلاس کے آغاز میں ہی ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی جب وائس چانسلر نے بورڈ کے بیرونی ممبران کو عارضی طور پر اجلاس سے باہر جانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’’کچھ اندرونی معاملات‘‘پر پہلے بات کرنا ضروری ہے۔ بیرونی ممبران کے باہر جانے کے بعد وائس چانسلر نے انتہائی پریشان انداز میں گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یونیورسٹی کے خزانہ دار سے درخواست کی تھی کہ انہیں تین کروڑ روپے فراہم کر دیئے جائیں اور بعد میں یہ رقم ان کی تنخواہ سے قسطوں میں کاٹ لی جائے مگر خزانہ دار نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر وائس چانسلر نے یہ جملہ بھی کہا کہ ’’یہ تو میری اوقات ہے‘‘۔ وائس چانسلر نے گفتگو کے دوران ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ جب انہوں نے یونیورسٹی کے لیے HAVAL گاڑی کی خریداری کا ایجنڈا پیش کیا تو پورے ادارے اور میڈیا میں اس کا مذاق اڑایا گیا۔ ان بیانات سے بظاہر یہ تاثر مل رہا تھا کہ وہ یونیورسٹی کے اندر اپنے فیصلوں اور اختیارات کے حوالے سے درپیش مزاحمت اور تنقید کا اظہار کر رہے تھے۔ وائس چانسلر کی اس جذباتی گفتگو کے بعد اجلاس میں موجود سینئر پروفیسرز اور دیگر اراکین مکمل خاموشی اختیار کیے رہے۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر شاید توقع کر رہے تھے کہ کوئی رکن ان کی حمایت میں گفتگو کرے گا تاہم تقریباً پانچ منٹ تک کمرۂ اجلاس میں غیر معمولی خاموشی چھائی رہی اور کسی نے کوئی تبصرہ نہ کیا۔ کسی بھی جامعہ کے اعلیٰ ترین تعلیمی و تحقیقی فورم میں ذاتی مالی معاملات، انتظامی شکوے یا ایسے حساس موضوعات کا زیر بحث آنا خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ بنیادی طور پر تحقیقی منصوبوں، ایم فل و پی ایچ ڈی معاملات اور علمی پالیسیوں پر غور کے لیے قائم کیا جاتا ہے، اس لیے اگر اجلاس کا آغاز ذاتی یا انتظامی نوعیت کے معاملات سے ہوا تو یہ ادارہ جاتی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔ اور اگر واقعی کسی سرکاری یونیورسٹی کے سربراہ نے یونیورسٹی فنڈز سے ذاتی ضرورت کے لیے کروڑوں روپے کی فراہمی کی درخواست کی تھی تو کیا یہ درخواست قواعد و ضوابط کے مطابق تھی؟ اور اگر نہیں تھی تو اس طرح کی تجویز آخر کس بنیاد پر پیش کی گئی؟ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ بیرونی ممبران کو اجلاس کے آغاز میں باہر بھیجنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کن ’’اندرونی معاملات‘‘پر گفتگو کی گئی؟ اس غیر معمولی گفتگو اور 5 منٹ کی خاموشی کے بعد بالآخر اجلاس اپنے اصل ایجنڈے کی طرف لوٹ آیا اور ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کے معمول کے معاملات پر بحث کا آغاز کر دیا گیا۔







