ملتان ( قوم ریسرچ سیل ) واسا کے زیرا نتظام اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں مزید بے ضابطگیوں اور ناقص میٹریل کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے، دولت گیٹ چوک پر بھی کریک زدہ، ٹوٹ پھوٹ کے شکار اور انتہا درجے کے غیر معیاری پائپوں کے علاوہ تیسرے درجے کی اینٹوں کا استعمال سامنے آیا ہے۔ سیوریج پائپ کے جوائنٹس بھی ٹھیک طریقے سے فکس نہیں کیے جا رہے جس سے منصوبے کی شفافیت پر درجنوں سوالات کھڑے ہو گئے ہیں جبکہ ایم ڈی واسا فیصل شوکت اور ڈائریکٹر ورکس حافظ وقاص میگا کرپشن پر خاموش تماشائی اور مکمل طور پر سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ روزنامہ قوم ٹیم کی جانب سے سینئرسابق سول انجینئر کے ہمراہ دولت گیٹ چوک پر ڈیڑھ ارب روپے کے جاری ترقیاتی منصوبے کے معائنے کے دوران بھی سنگین بے ضابطگی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ پوائنٹ اس لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں میٹرو بس کا بہت ہیوی سٹرکچر موجود ہے سے کراؤن فیلیئر کی صورت میں میٹروپل کو شدید قسم کا نقصان ہو سکتا ہے مگر واسا کے کسی بھی افسر کو اس کا سرے سے کوئی احساس ہی نہیں، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ منصوبہ بھی لاہور سے تعلق رکھنے والی وقاص برادر اینڈ انجینئرز نامی کمپنی مکمل کر رہی ہے اور یہ لاہور کی واحد کمپنی ہے جو 25 ارب روپے کے پراجیکٹس میں سے سب سے زیادہ سات ارب روپے کی تین سکیموں پر کام کر رہی ہے۔ معائنے کے دوران دیکھنے میں آیا کہ دولت گیٹ چوک پر بھی پائپ کریک زدہ اور بعض جگہوں سے نہ صرف ٹوٹے ہوئے تھے بلکہ ان میں سے ریت اور سیمنٹ کا مکسچر باہر گر رہا تھا اور ان کی تیاری اور پکائی کا پراسس بھی نامکمل نظر آیا جبکہ اینٹیں بھی تیسرے درجے کی لگائی جا رہی تھیں۔ موقع پر موجود لوگوں نے قوم کی ٹیم کو بتایا کہ اس قسم کےمتعدد پائپ لائنوں کے اندر زمین میں دبائے بھی جا چکے ہیں۔ اب چونکہ یہ پائپ زمین میں دفن ہوچکے ہیں اس لئے ان کی تعداد اور معیار جانچنا مشکل ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایم ڈی واسا فیصل شوکت اور ڈائریکٹر ورکس حافظ وقاص کی جانب سے ٹھیکیداروں کے ساتھ بھاری کمیشن طے ہو جانے کی وجہ سے ملتان کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہو رہی ہے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ نگرانی کرنے والے ادارے اور اینٹی کرپشن حکام اس پر بالکل خاموش ہیں اور ٹھیکیدار کمپنی ناکارہ ،غیر معیاری اور ناقص میٹریل استعمال کرکے کروڑوں روپے کمانے میں مصروف ہے لیکن واسا افسران کے ساتھ مک مکا کے باعث ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ شہریوں اور سابق انجینئر نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ ناقص اور غیر معیاری میٹریل کے استعمال سے یہ منصوبہ دو سال سے زیادہ چلتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس لئے وزیراعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری ہاؤسنگ کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیکر کرپشن اور غیر معیاری کام کرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کریں اور واسا افسران کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ ملتان کے بڑے منصوبے کا شہریوں کو طویل المدت فائدہ حاصل ہوسکے۔







