ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب حکومت کے محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن میں بڑے پیمانے پر احتسابی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ۔ سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید نے مختلف محکمانہ اپیلوں اور انکوائری رپورٹس کی سماعت کے بعد متعدد سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز، فوڈ گرین انسپکٹرز اور اسسٹنٹ فوڈ سیفٹی افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائیوں کے احکامات جاری کر دیئے ہیں جبکہ بعض افسران کو الزامات سے بری کرتے ہوئے بحال بھی کر دیا گیا ہے۔محکمہ فوڈ سیفٹی کے ترجمان کے مطابق سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر ساہیوال عمران بلوچ کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات ثابت ہونے پر ان کی ملازمت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ عمران بلوچ پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی، سرکاری قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے فلور ملوں کو غیر قانونی طور پر گندم جاری کرنے اور محکمانہ انکوائری میں مسلسل غیر حاضر رہنے کے الزامات عائد تھے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق انہوں نے ساہیوال کی مختلف فلور ملوں کو سرکاری منظوری کے بغیر لاکھوں روپے مالیت کی گندم جاری کی جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ اسی طرح گندم سکینڈل میں ملوث سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر گجرات محمد خالد کو بھی بڑی سزا سنائی گئی ہے۔ محکمہ فوڈ سیفٹی نے انہیں ملازمت سے جبری ریٹائر کر دیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے گجرات میں ضبط شدہ گندم من پسند فلور ملوں کو اونے پونے داموں فروخت کی اور قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ محکمانہ انکوائری میں الزامات ثابت ہونے کے بعد ان کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی۔ دوسری جانب سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر سدرہ معراج کے خلاف بھی سخت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سیکرٹری فوڈ سیفٹی نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سات روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔ سدرہ معراج پر چکوال میں تعیناتی کے دوران ضبط شدہ 46 گندم بردار گاڑیوں میں سے 15 گاڑیوں کی گندم مختلف فلور ملوں کو غیر قانونی طور پر فراہم کرنے کا الزام ہے۔ محکمہ فوڈ سیفٹی کے مطابق اس اقدام سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ محکمانہ احتسابی عمل کے دوران سابق اسسٹنٹ فوڈ سیفٹی آفیسر محمد نعمان کو ریلیف مل گیا۔ ان کی ملازمت سے برطرفی کے خلاف دائر اپیل باقاعدہ سماعت کے بعد منظور کر لی گئی۔ ترجمان کے مطابق فیصل آباد میں چوہدری ڈیری کی مبینہ بوگس انسپکشن اور لائسنسنگ عمل میں ہیرا پھیری کے الزامات ان کے خلاف ثابت نہیں ہو سکے جس کے باعث انہیں بحال کر دیا گیا۔ اس کے برعکس سابق اسسٹنٹ فوڈ سیفٹی آفیسر محمد شہباز کی اپیل مسترد کر دی گئی۔ ان پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، غفلت اور مختلف علاقوں میں مافیا کی پشت پناہی کے الزامات ثابت ہوئے۔ انکوائری رپورٹ میں ملتان اور پاکپتن میں تعیناتی کے دوران غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے پر ان کی برطرفی برقرار رکھی گئی۔ محکمہ فوڈ سیفٹی نے ننکانہ صاحب میں گندم کی تقسیم اور خورد برد کے ایک اہم مقدمے میں سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر جمشید افضل بھٹی اور فوڈ گرین انسپکٹر حافظ محمد عمر کو مکمل طور پر بے قصور قرار دے دیا۔ انکوائری افسر کی رپورٹ اور ذاتی سماعت کے بعد دونوں افسران کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے کلین چٹ دے دی گئی۔ ادھر ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ میں گندم خریداری سکیم کے دوران ناقص کارکردگی اور غیر معیاری گندم کی خریداری کے معاملات پر بھی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر ڈیرہ غازی خان محمد رمضان اور سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر مظفر گڑھ راحیل اسلم کے خلاف انکوائری رپورٹس مرتب کی جا چکی ہیں۔ لیبارٹری ٹیسٹوں میں گندم کے نمونوں کو ناقص اور معیار کے خلاف قرار دیئے جانے کے بعد دونوں افسران کو چارج شیٹ جاری کر دی گئی ہے۔ محمد رمضان کی تین سالہ ترقی بھی روک دی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں مظفر گڑھ کے سابق فوڈ گرین سپروائزر ثاقب علی کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا جبکہ پی آر سنٹر مظفر گڑھ کے انسپکٹر محمد اعظم کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ان پر ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری گندم کی سپلائی کے الزامات عائد تھے۔ ترجمان فوڈ سیفٹی کے مطابق سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید نے واضح کیا ہے کہ سرکاری گندم، عوامی وسائل اور خوراک کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام زیر التوا انکوائریوں کو جلد مکمل کیا جائے اور جہاں بھی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، غفلت یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے شواہد ملیں وہاں بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ محکمہ فوڈ سیفٹی کی حالیہ کارروائیوں کو پنجاب کے فوڈ سیکٹر میں احتساب اور شفافیت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہےجہاں پہلی بار متعدد اضلاع کے افسران کے خلاف بیک وقت کارروائی کرتے ہوئے بعض کو سزائیں، بعض کو ریلیف اور بعض کے خلاف مزید تحقیقات کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔







