

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر روزانہ ابھرنے والا منظر دل دہلا دینے والا ہے۔ سینکڑوں افغان خاندان اپنے بچے، سامان اور آنکھوں میں غیر یقینی کا سایہ لیے واپسی کے سفر پر ہیں۔ اپریل سے اب تک پانچ لاکھ سے زائد افغان پاکستان سے

نیپال میں ابھرنے والی حالیہ عوامی تحریک نے دنیا کو ایک بار پھر یہ دکھایا ہے کہ جب معاشرے میں بے روزگاری، مہنگائی، کرپشن اور ریاستی جبر ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں تو پھر کوئی طاقت عوام کو سڑکوں پر نکلنے سے روک نہیں سکتی۔

پاکستان کا تعلیمی بحران کوئی نیا موضوع نہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ بحران اس قدر شدید ہو چکا ہے کہ اسے محض ایک شعبے کا مسئلہ نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ قومی سلامتی اور بقا کا سوال بن چکا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع

پاکستان میں خواجہ سرا اور ٹرانس جینڈر برادری کی زندگی ایک ایسے دوہرے پن میں گزرتی ہے جہاں قانون کبھی انہیں تسلیم کرتا ہے تو کبھی انکار کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ 2011 میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے نے ان افراد کو آئینی اور انسانی

صدر آصف علی زرداری کا حالیہ دورۂ چین اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان نہ صرف شدید معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس کی سلامتی کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ صدر کا چین کے ایوی ایشن انڈسٹری

ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ “Reboot Development: The Economics of a Liveable Planet” دنیا کے سامنے ایک نہایت تلخ حقیقت رکھتی ہے: دنیا کی 90 فیصد آبادی ایسی زمین پر بستی ہے جو بگڑ چکی ہے، ایسا پانی پیتی ہے جو صاف نہیں، اور ایسی ہوا

پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں اختلافِ رائے کو دلیل اور مکالمے کے ذریعے دبانے کے بجائے مقدمات، گرفتاریوں اور جیلوں کے ذریعے کچلنے کی روایت پروان چڑھی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت پر لگائے گئے حالیہ الزامات اور ان کے

بلوچستان کی صوبائی کابینہ نے حالیہ اجلاس میں جو فیصلے کیے ہیں وہ نہ صرف اس صوبے کی سماجی تاریخ میں اہم سنگِ میل ہیں بلکہ یہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثبت مثال بھی قائم کرتے ہیں۔ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے لیے پہلی پالیسی کی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور وکیل و حقوقِ انسانی کارکن ایمان مزاری کے درمیان ہونے والے حالیہ مکالمے نے ایک بار پھر عدلیہ کے وقار اور رویوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عدالت کا کمرہ قانون کی بالادستی

پاکستان میں شہری آزادیوں پر چھائے اندیشے اب ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ “Shadows of Control: Censorship and Mass Surveillance in Pakistan” نے وہ حقیقت کھول دی ہے جس کا اندازہ عوام کو صرف افواہوں اور قیاس آرائیوں سے

اسرائیل کی جانب سے دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی بمباری محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ خطے کی سیاست میں زلزلے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب حماس کے جلاوطن رہنما ایک امریکی حمایت یافتہ

کامن ویلتھ گزشتہ برس ساموآ میں جب اپنے رہنماؤں کو اکٹھا کرتی ہے تو جمہوری اقدار اور میڈیا کی آزادی کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے۔ وہاں ’’میڈیا پرنسپلز‘‘ پر دستخط ہوتے ہیں، یہ وعدے کیے جاتے ہیں کہ آزادیٔ اظہار کا دفاع کیا جائے گا

پاکستان کی عدلیہ ایک بار پھر شدید بے اعتمادی اور اندرونی خلفشار کا شکار نظر آ رہی ہے۔ یہ محض مبصرین یا تنقید کرنے والے حلقوں کی رائے نہیں بلکہ وہ جج صاحبان بھی اس بے چینی کو زبان دے رہے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں

ستمبر 2025 کے سیلاب نے پنجاب کو ایک بار پھر یہ یاد دلایا ہے کہ قدرتی آفات میں اصل تباہی صرف پانی نہیں لاتا—بروقت، شفاف اور یکساں معلومات کی عدم دستیابی بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ دستیاب غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے

بالآخر وہ دن آ ہی گیا جس کا انتظار پاکستان کی صحت عامہ سے وابستہ حلقے برسوں سے کر رہے تھے۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے قومی ادارۂ صحت (NIH) کی تنظیمِ نو سے متعلق بل پر دستخط کے بعد اب پاکستان میں

پاکستان میں شہریوں کے ذاتی کوائف کے حالیہ انکشافات نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا ریاست خود اپنی ہی رعایا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے؟ ابھی یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو ہزاروں شہریوں،

دو روز قبل پاکستان کے ایک بڑے اور معتبر سمجھے جانے والے میڈیا گروپ کے تحت شائع ہونے والے قومی روزنامے میں “اداریہ” شائع نہیں ہوا۔ اور آج، جب یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں، تیسرا دن ہے کہ ادارتی صفحے پر اداریہ کی جگہ

ذہنی اذیت اور نفسیاتی دباؤ آج دنیا بھر کے انسانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب افراد ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ ڈپریشن اور اضطراب طویل المیعاد معذوری کی دوسری سب

پنجاب بھر میں حالیہ سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے، وہ کسی قیامت سے کم نہیں۔ کھڑی فصلیں ہزاروں ایکڑ پر برباد ہو گئیں، جس سے ملک کی غذائی ٹوکری کہلانے والا پنجاب اس وقت شدید بحران میں مبتلا ہے۔ سندھ میں بھی صورت حال مختلف

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ کے حالیہ ریمارکس پر اختلاف کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں رائج ہائبرڈ نظام — جس میں غیر منتخب قوتیں براہِ راست شہری معاملات میں مداخلت کرتی ہیں — دراصل آمریت کا

ہمارے سماج میں جب بھی کسی جامعہ میں جنسی ہراسانی، بلیک میلنگ یا اخلاقی جرائم کا انکشاف ہوتا ہے تو کچھ حلقے فوری طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ واقعات ’’معمول‘‘ ہیں، میڈیا انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، یا

حالیہ دنوں ایک تشویشناک خبر منظر عام پر آئی کہ پاکستان شدید ماحولیاتی بحران کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت کے نئے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کا عندیہ دیا اور کہا

چھ ستمبر کا دن ہر پاکستانی کے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ دن نہ صرف وطنِ عزیز کے دفاع میں دی جانے والی عظیم قربانیوں کی یادگار ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی، حب الوطنی اور خودداری کے اس جذبے کی تجدید کا موقع

پاکستان میں مون سون کا موسم ہر سال لاکھوں افراد کے لیے خوف اور تباہی کا پیغام لے کر آتا ہے، اور بدقسمتی سے 2025 کا سال بھی اس سے مختلف نہیں رہا۔ جنوبی پنجاب ایک بار پھر شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے، اور اس

وہ جو بولتے تھے، اب چھپے بیٹھے ہیں۔ اور جو کبھی ان کے وعدوں کے گواہ تھے، وہ اب یا تو خاموش ہیں، یا خود اپنی زبان سے مکر چکے ہیں۔ افغانوں کی حالیہ بے دخلی، اور ان کے بعد جرمنی کا ردعمل — محض سفارتی

کوئٹہ میں حالیہ خودکش حملہ، جس میں درجنوں جانیں ضائع ہوئیں، محض ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی حقیقت کی نقاب کشائی تھی جسے ہم اکثر جان بوجھ کر نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ اس واقعے نے بلوچستان کے منظرنامے پر ایک

کسی معاہدے کی عمر اگر طے شدہ ہو، تو اس کے ختم ہونے سے پہلے ہی اس کے خلاف شکوک پیدا ہونے لگتے ہیں۔ پاکستان میں این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ کچھ اسی طرح کا ہے۔ ہر پانچ سال بعد مرکز اور صوبے کسی نئی

پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر “نئے صوبوں” کی بحث زور و شور سے ہورہی ہے۔ اس بحث کا آغاز انہی حلقوں کی جانب سے کیا جارہا ہے جو پاکستان کی ریاست کی کثیر القومیتی شناخت کو ماننے سے انکاری رہے ہیں اور یہ

دنیا ایک بار پھر ایک نئے نظام کی جانب بڑھ رہی ہے—یا کم از کم یہی تاثر دیا جا رہا ہے۔ پرانے عالمی نظام کی بنیادیں، جو ایک صدی سے مغرب کے غلبے پر کھڑی تھیں، اب بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ مگر جب عمارت گرنے لگتی

محکمۂ موسمیات کی تازہ ترین ہائی الرٹ وارننگ نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے کے واقعات بڑے پیمانے پر تباہی لا سکتے ہیں۔ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے اور





























