راجن پور(ڈپٹی بیورو چیف ) ایک سال کےدوران راجن پور اور گردو نواح کے قصبات میں 17سے زائد افراد کی گندم والی گولیاں کھاکراپنی زندگی کاخاتمہ کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ تازہ ترین واقعہ میں نوشہرہ شرقی میں ایک 13 سالہ بچے نے گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا اس سے قبل فاضل پور اور راجن پور میں بھی ایسے دو افسوسناک واقعات رونما ہو چکے ہیں یہ واقعات کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں کہ آخر ہمارے معاشرے میں ایسا کیا ہو رہا ہے کہ کم عمر بچے بھی زندگی سے مایوس ہو کر انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ذہنی دباؤ، گھریلو مسائل، وقتی غصہ، جذباتی کیفیت یا احساسِ محرومی بعض اوقات انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کر دیتے ہیں لمحوں کے فیصلے پوری زندگی کا خاتمہ کر دیتے ہیں، جبکہ بعد میں صرف پچھتاوا اور دکھ باقی رہ جاتا ہے۔والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے سنے، ان کے جذبات کو سمجھے اور ان کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دیں، ان کی ذہنی کیفیت کو سمجھیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے اور زندگی ہر حال میں قیمتی ہے۔







