ملتان( قوم انویسٹیگیشن سیل) ویڈیو بنانے پر تشدد کر کے قتل جلال پور کے بدنام ڈاکوؤں اور پولیس کے سہولت کاروں نے کیا مگر بعد میں پولیس میں انتہائی آلودہ شہرت رکھنے والے ایس ایچ او فراز اعوان کے ساتھ 25 لاکھ روپےمیں مبینہ ڈیل کے بعد مقتول کے مردہ جسم پر فائرنگ کرکے اسے پولیس مقابلے کا رنگ دے دیا گیا اس طرح ایک اور بے گناہ خون جلال پور پیر والا پولیس نے سال 2025 میں اپنی پیشانی پر سجا لیا۔ تفصیلات کے مطابق سید خاندان کے ایک شخص آصف شاہ کو اپنی اہلیہ کے کردار پر شک تھا اور وہ اپنی اہلیہ کے حوالے سے مختلف لوگوں پر مختلف قسم کے الزامات عائد کرتا تھا جن میں یاسر عباس نامی مقتول بھی شامل تھا۔ آصف شاہ کا تعلق جلال پور پیر والا کے پیرے شاہ گروپ کے ساتھ تھا جن کے زیر اثر عبد الرحمان، رشید، اسماعیل اور احمد نامی جرائم پیشہ افراد مختلف قسم کی وارداتوں میں ملوث رہتے تھے مگر سہولت کاری کی وجہ سے ہمیشہ بچ جاتے تھے۔ آصف شاہ کے کہنے پر ان چاروں نے یاسر عباس کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں تو یاسر شاہ ان سے بہت محتاط ہو گیا اور ان کے جرائم کی کھوج میں لگ گیا۔ اسی دوران یاسر شاہ نے اس وقت کے ایس ایچ او فراز اعوان کو اس گینگ بارے معلومات فراہم کی تو بجائے کارروائی کے یہ گینگ فراز اعوان کی چھتر چھایا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔دوسری جانب فراز اعوان نے یاسر شاہ کو تھپکی دی کہ وہ اس گینگ کے بارے میں ثبوت حاصل کرکے مجھے فراہم کرے جس پر ایک جگہ جب یہ گینگ واردات کر رہا تھا تو یاسر شاہ اتفاقیہ طور پر وہاں پہنچ گیا اور اس نے ویڈیو بنانی شروع کر دی جس پر ان جرائم پیشہ افراد نے اسے موٹر سائیکل سمیت اغوا کیا اور نامعلوم مقام پر لے جا کر پانچ گھنٹے تشدد کیا جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا۔ یاسر شاہ کے قتل کے بعد چھپنے کے بجائے اس گینگ نے براہ راست فراز اعوان سے رابطہ کیا اور انہیں اعتماد میں لے کر تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا۔ ایک سید زادے کے ذریعے 25 لاکھ روپے میں مبینہ طور پر ڈیل ہوئی اور فراز اعوان نے اس قتل کو پولیس مقابلے کا رنگ دینے کی حامی بھر لی پھر گزشتہ سال دو جون کو یاسر عباس شاہ کی ڈیڈ باڈی پر فائرنگ کر کے پولیس مقابلے کا رنگ دیا گیا اور قاتلوں کو صاف بچا لیا گیا۔ گزشتہ ایک سال سے مقتول یاسر عباس شاہ کی بہنیں اعلیٰ پولیس افسران کے در پر دھکے کھا رہی ہیں اور دو روز قبل مریم نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ملتان کے رضا ہال میں ہونے والی کھلی کچہری میں بھی ان دونوں بہنوں نے دھائی دی۔ پولیس نے خانہ پری کے لیے کراس ورشن تو درج کر لیا ہے مگر کسی بھی ملزم کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں ہو رہی۔







