

وزیرِاعظم پاکستان جناب محمد شہباز شریف اور روسی وفاق کے صدر جناب ولادیمیر پوٹن کے درمیان حالیہ ملاقات نے پاکستان اور روس کے تعلقات کو ایک نئی توانائی دی ہے۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا

شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ دو روزہ اجلاس، جو چین کے شہر تیانجن میں اختتام پذیر ہوا، نے دنیا کو ایک ایسے کثیرالجہتی منظرنامے کی جھلک دکھائی ہے جس میں خودمختار ریاستیں برابری کی بنیاد پر اکٹھی ہو سکیں، اور اس یک رُخی مغربی و یورپی

پاکستان ایک بار پھر سیلاب کی شدید تباہ کاریوں سے گزر رہا ہے۔ محکمۂ موسمیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق رواں برس مون سون بارشوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 500 افراد جاں بحق، 9 لاکھ سے زائد لوگ متاثر، اور 80 ہزار کے

موجودہ برساتی سیلاب نے وسطی پنجاب کی وسیع و عریض زرعی زمینوں کو نگل لیا ہے۔ لاکھوں چھوٹے کسان اپنے کھیت، گھر اور مال مویشی چھوڑ کر بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے آ گئے ہیں۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب کے کناروں پر بسنے والے

پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ نئی قائم ہونے والی پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے بورڈ میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو ٹریڈنگ کو جلد از جلد قانونی حیثیت دی جائے۔ اس کے برعکس اسٹیٹ

پاکستان کے لیے یہ لمحہ انتہائی تشویش ناک ہے کہ ٹانک اور شمالی وزیرستان میں دو مزید بچے پولیو وائرس کا شکار ہو کر زندگی بھر کے لیے مفلوج ہو گئے ہیں۔ اس برس اب تک کیسز کی تعداد 23 تک پہنچ گئی ہے، جن میں

پنجاب کے میدان آج کل ایک بار پھر تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ ستلج، راوی اور چناب کی گزرگاہوں پر پانی بپھرتا ہوا اپنے راستے بناتا جا رہا ہے۔ یہ کوئی نیا المیہ نہیں؛ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر برس برسات

وہ لوگ جو اینٹیں پکاتے ہیں، ان کے خواب راکھ ہو چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے جو اینٹیں نکلتی ہیں، وہ محلات تعمیر کرتی ہیں، سڑکیں بناتی ہیں، اور شہروں کو آسمان سے باتیں کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ مگر انہی ہاتھوں کی اپنی زندگی،

وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کی نئی نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی 2025-30 کا “رسمی” آغاز—جو درحقیقت پہلے ہی 19 جون کو ایک حکومتی اعلامیے کے ذریعے سرکاری” طور پر متعارف کرائی جا چکی تھی—ملک کے پالیسی کلچر کا ایک مانوس منظر پیش کرتا

پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا حالیہ شکوہ کہ ہم نے ماضی کی ماحولیاتی آفات سے کچھ نہیں سیکھا، صرف ایک جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک قومی بحران کا کھلا اعتراف ہے۔ یہ شکوہ اس وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان

گزشتہ ہفتے انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس -آئی آئی ایف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ایک تلخ مگر سچ پر مبنی آئینہ دکھایا ہے۔آئی ائی ایف، جو دنیا کے 60 سے زائد ممالک کی 400 سے زائد مالیاتی اداروں

پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) اس وقت ایک ایسی صورتِ حال سے گزر رہی ہے جو نہ صرف اس کی تنظیمی ساخت پر سوالیہ نشان ہے بلکہ قیادت کے فیصلوں اور جماعتی اتحاد کے درمیان خلیج کو بھی بے نقاب کر رہی ہے۔ “استعفیٰ دیں یا نہ

برصغیر پاک و ہند اس وقت ایک سنگین قدرتی آفت کی لپیٹ میں ہے، جہاں یکے بعد دیگرے آنے والی موسلا دھار بارشوں نے تمام بڑے دریاؤں کو خطرناک حد تک لبریز کر دیا ہے۔ دریائے چناب، راوی، ستلج اور جہلم سمیت ہر دریا اب قہر

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات، جو عشروں تک سرد مہری اور بداعتمادی کا شکار رہے، اب رفتہ رفتہ بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ 1971ء کے تلخ واقعات، جن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر ایک نئی ریاست بنگلہ دیش کی صورت میں سامنے

پاکستان کے حالات بظاہر کچھ سنبھلے ہوئے لگتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں، ہندوستان کے ساتھ ایک کشیدگی کے موقع پر، پاکستان نے جس طرح مؤثر انداز میں اپنا دفاع کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ قوم میں ایک نئی خوداعتمادی اور فخر نے جنم لیا ہے۔

پاکستان میں سیاسی معاملات جس انداز سے ریاستی طاقت کے استعمال سے وابستہ ہو چکے ہیں، وہ جمہوری اقدار، بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ سابق وزیرِاعظم عمران خان کے دو بھانجوں کی حالیہ گرفتاری ان واقعات کی

کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد شفافیت، جوابدہی اور مالی دیانت داری پر استوار ہوتی ہے۔ ترقی پذیر جمہوریتوں میں، جہاں ریاستی ادارے ابھی مکمل استحکام کی طرف گامزن ہوتے ہیں اور حکومتی نظام میں بدعنوانی کے سائے لمبے ہوتے ہیں، وہاں عوامی نمائندوں اور سرکاری

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کی تاریخ ایک پیچیدہ اور جذباتی پس منظر رکھتی ہے۔ 1971 کے سانحے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر اگرچہ تعلقات قائم رہے، لیکن ایک طویل عرصے تک ان میں وہ گرمجوشی اور اعتماد پیدا نہ

پاکستان اور چین کے مابین تعلقات ایک نئی جہت اختیار کر چکے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا حالیہ دورۂ اسلام آباد نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کا عملی اظہار تھا بلکہ اس نے مستقبل میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کے

پاکستان کی معیشت ایک طویل عرصے سے بیرونی سرمایہ کاری کے فقدان کا شکار رہی ہے۔ 2023-24 مالی سال میں سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب پچاس برس کی کم ترین سطح پر آ گیا تھا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ہمیشہ سے ایک ایسا موضوع رہا ہے جو کھیل سے بڑھ کر سیاست، سفارت کاری اور عوامی جذبات کی نمائندگی کرتا ہے۔ حال ہی میں بھارت کی وزارتِ کھیل نے اعلان کیا ہے کہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر اس نہج پر کھڑی ہے جہاں عدالتوں کے فیصلے، فوج کے بیانات اور سیاست دانوں کی حکمتِ عملی ایک دوسرے کے متوازی چلتے دکھائی دیتے ہیں مگر کسی مقام پر ایک دوسرے سے ٹکراتے بھی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دو

پاکستان کی معیشت اس وقت جس گرداب میں پھنسی ہوئی ہے اس سے نکلنے کا واحد پائیدار راستہ برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے درست کہا کہ پاکستان کی معاشی استحکام کا انحصار ایکسپورٹ لیڈ گروتھ پر ہے، لیکن

پاکستان میں پولیو ایک ایسا زخم ہے جو تین دہائیوں سے بھرنے کا نام نہیں لے رہا۔ رواں سال اب تک اکیس معصوم بچے اس موذی مرض کی وجہ سے عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ حالیہ دو کیسز کوہستان اور بدین میں

دنیا اس وقت کئی بڑے تنازعات کی لپیٹ میں ہے لیکن یوکرین جنگ ایک ایسا المیہ ہے جس نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور اب ایک بار پھر امن مذاکرات کی امید

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس -پی بی ایس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 میں بڑے پیمانے کی صنعتوں-ایل ایس ایم میں سالانہ بنیادوں پر 4.14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ماہانہ بنیاد پر (جون بمقابلہ مئی 2025)

اوچ شریف کے نواحی علاقے محمد پور میں پنجاب پولیس کی جانب سے رات کے وقت بغیر خواتین اہلکاروں کے گھروں میں گھس کر خواتین پر تشدد اور طالبہ اقرا یونس کی گرفتاری کا واقعہ ریاستی جبر، پولیس گردی اور قانون کی پامالی کا ایک افسوسناک

کراچی، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے ایک بار پھر ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ چند گھنٹوں کی بارش نے کراچی جیسے شہر کی سڑکوں کو

پاکستان کی معیشت ان دنوں ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر چھوٹا قدم کسی بڑی تباہی کو روکنے کا سبب بن سکتا ہے، اور ہر معمولی لغزش برسوں کی محنت کو ضائع کر سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں موڈی کی جانب سے پاکستان

کبھی وہ وقت تھا جب دنیا کے ہاکی میدانوں پر پاکستان کا طوطی بولتا تھا۔ گرین شرٹس کا ذکر کرتے ہی فتح، مہارت، رفتار اور وقار ذہن میں آتے تھے۔ ہاکی نہ صرف پاکستان کا قومی کھیل تھا، بلکہ ایک ایسا شعبہ تھا جس میں ہم





























