ایران کے زیر زمین محفوظ افزودہ یورینیم کو ابھی حاصل کرسکتے ہیں مگر ضرورت نہیں، امریکی صدر

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے زیرِ زمین محفوظ افزودہ یورینیم کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ان کے مطابق فی الحال ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور حزب اللہ کے نمائندوں سے لبنان کی صورتحال پر بات چیت کی ہے، جس میں بعض مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کو حزب اللہ نے مسترد کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اس معاہدے کو “شرمناک” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ دراصل لبنان کے ایک حصے کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے گا، شمالی اسرائیل حزب اللہ کے حملوں کی زد میں رہے گا۔
ادھر لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں متعدد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں ہونے والے ایک حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جس میں یو این امن مشن کا ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے میزائل حملے میں اس کا ایک فوجی بھی مارا گیا ہے۔
غزہ میں بھی صورتحال سنگین ہے، جہاں جنگ بندی کے دعووں کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 11 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق غزہ میں انسانی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی یہ مجموعی صورتحال خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جبکہ ایران، اسرائیل، لبنان اور غزہ سے متعلق پیش رفت پر عالمی طاقتوں کی گہری نظر برقرار ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں