ملتان(وقائع نگار) ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) ریجن کے مختلف علاقوں میں شدید آندھی اور بارش کے باعث بجلی کی فراہمی ہوئی۔ خراب موسمی صورتحال کے نتیجے میں مظفرگڑھ، ڈی جی خان، ملتان، خانیوال اور بہاولپور سرکلز کے متعدد فیڈرز ٹرپ ہوئے جس سے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہوئی۔رحیم یار خان سرکل کے زیر انتظام صادق آباد میں شدید طوفان بادوباراں سے 132KVکے 4ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنیں زمین بوس ہوگئیں۔میپکو ترجمان کے مطابق خراب موسم کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے میپکو کی آپریشنل اور فیلڈ ٹیمیں فوری طور پر متحرک کردی گئی ہیں اور متاثرہ فیڈرز کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر آپریشن جاری رہا۔ فیلڈ سٹاف خرابیاں دور کرنے اور بجلی کی جلد بحالی کے لئے مختلف مقامات پر مسلسل کام کررہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ بحالی کا عمل سیفٹی ایس او پیز کے مطابق بلا تعطل جاری رکھا گیا ہے تاکہ عملے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کی جاسکے۔ میپکو انتظامیہ نے تمام متعلقہ افسران اور فیلڈ ٹیموں کو ہدایت جاری کیں کہ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی مکمل بحالی تک ہائی الرٹ رہیں اور بحالی کے کام میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔سپریٹنڈنگ انجینئر جی ایس او ملتان سرکل رضا ظفر نے صادق آباد ڈویژن کے 132KVٹرانسمیشن لائن صادق آباد۔گدو۔نوازآباد کے گرنے والے 4ٹاورز اور لائنز کی سائٹس کا دورہ کیا اور بجلی کی کم سے کم وقت میں بحالی کے لئے جی ایس او، جی ایس سی، ایس ایس اینڈ ٹی،کنسٹرکشن اور آپریشن کی ٹیموں کے ہمراہ کام شروع کروایا۔انتظامیہ کی ہدایت پر رحیم یار خان اور ڈی جی خان کے متاثرہ علاقوں میں طوفانی بارش اور آندھی سے ہونے والے نقصانات کے بعد بجلی کے نظام کی بحالی اور کاموں کی مسلسل مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے تاکہ متاثرہ تنصیبات کی مرمت کے ساتھ ساتھ مستقبل میں نظام کی بہتری اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔میپکو انتظامیہ نے صارفین سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ خراب موسم کے دوران بجلی کی تنصیبات، ٹوٹے ہوئے تاروں اور پولز سے محفوظ فاصلہ رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال یا شکایت کی صورت میں متعلقہ میپکو دفاتر سے فوری رابطہ کریں۔میپکو کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بجلی کی مکمل بحالی تک آپریشن جاری رہے گا اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں تاکہ صارفین کو جلد اور محفوظ بجلی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔







