پی ٹی آئی سے مذاکرات کامیاب بھی ہوں تو احترام کی کیا ضمانت ہے؟ خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز بھی ثابت ہوں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ان کا احترام بھی کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکن سڑکوں پر اسلحہ لے کر موجود ہیں جبکہ ان کے بہادر رہنما بم پروف اور بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی، ہیلی کاپٹر اور سرکاری وسائل کا استعمال جبکہ اسلحہ بردار جلوس بھی صورتحال کا حصہ ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حقیقی معنوں میں دلیر اور مخلص لیڈر اپنے کارکنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے، نہ کہ ان سے الگ رہتا ہے۔ ان کے مطابق عدالت کے احکامات اور عائد کردہ شرائط کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب بھی ہو جائیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ان معاہدوں اور فیصلوں کا احترام کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر سب کا اتفاق اور اس کا احترام موجود ہے، تاہم پی ٹی آئی اس پر رضامند نہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے ڈرون حملہ ہو یا دہشت گردی کا واقعہ، پی ٹی آئی کی جانب سے نہ مزاحمت نظر آتی ہے اور نہ مذمت۔ فوج، پیرا ملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں پر بھی مزاحمت یا مذمت نہیں کی جاتی۔ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے ماضی کے بیانیے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے تھے حملہ سومنات پر ہوگا، لیکن یہ اسلام آباد ہے، پہلے غزنی سے باہر نکلیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں