ملتان( خبر نگار)ایم فل پاس نوجوان بے روزگاری سے دلبرداشتہ، ڈگریاں چوک میں نذرِ آتش، خودسوزی کی کوشش۔3 سال سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے لیے دربدر، سفارش اور رشوت کے مطالبات نے جینے کی امید چھین لی، ٹریفک پولیس اور شہریوں نے بروقت مداخلت کرکے جان بچا لی۔تفصیل کے مطابق شاہ رکنِ عالم کے علاقے میں بے روزگاری اور معاشرتی طعنوں سے دلبرداشتہ ایم فل پاس 26 سالہ نوجوان ساجد نے مبینہ طور پر اپنی تمام تعلیمی اسناد اور ڈگریاں چوک کے درمیان آگ لگا کر نذرِ آتش کر دیں اور خود پر پیٹرول چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کی، تاہم ٹریفک پولیس اہلکاروں اور راہگیروں نے بروقت مداخلت کرکے ایک قیمتی انسانی جان بچا لی۔بتایاگیاہے کہ ساجد گزشتہ تین سال سے اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود روزگار کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا تھا۔ مبینہ طور پر مختلف مقامات پر ملازمت کے حصول کے لیے سفارش اور رشوت کے مطالبات نے اس کی مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا تھا، جبکہ معاشرتی طعنوں اور بے روزگاری کے کرب نے اسے شدید ذہنی دباؤ سے دوچار کر رکھا تھا۔واقعے کے وقت نوجوان سڑک پر کھڑا چیخ چیخ کر اپنی بے بسی کا اظہار کرتا رہا کہ ’’ان کاغذ کے ٹکڑوں کا کیا فائدہ، جب یہ مجھے دو وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے۔‘‘ اس نے اپنی تعلیمی اسناد اور ڈگریوں کو آگ لگا دی اور مبینہ طور پر خود پر پیٹرول چھڑکنے کے بعد ماچس جلانے کی کوشش کی، تاہم موقع پر موجود ٹریفک پولیس اہلکاروں اور شہریوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر اسے قابو کرلیا اور اس کے ہاتھ سے ماچس چھین کر خودسوزی کی کوشش ناکام بنا دی۔واقعے کے بعد نوجوان کو شدید ذہنی دباؤ کی حالت میں تھانے منتقل کیا گیا، جہاں اس کے غریب والدین بھی پہنچ گئے۔ بیٹے کی اس حالت پر والدین کی بے بسی اور کرب نے موقع پر موجود افراد کو بھی افسردہ کر دیا۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں ہونے کے باوجود روزگار نہ ملنا، مبینہ سفارش اور رشوت کے مطالبات اور معاشرتی طعنوں کا سامنا کرنا ایک ایسا تلخ سوال ہے جو ہمارے نظامِ روزگار اور معاشرتی رویوں پر کئی سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے۔ آخر وہ کون سا المیہ ہے کہ برسوں محنت کرکے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان اپنی ڈگریوں کو ہی اپنی بے بسی کی علامت سمجھنے لگے؟ اگر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار، باعزت مواقع اور ذہنی و معاشرتی تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو بے روزگاری محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔یہ واقعہ محض ایک نوجوان کی مایوسی کی داستان نہیں بلکہ متعلقہ حکام، پالیسی سازوں اور معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ۔







