ملتان (عامر ملک سے)ملتان پیراںغائب روڈ پر ایک بیوہ خاتون اور اس کے یتیم بچوں کے واحد ذریعۂ معاش پر مبینہ قبضے کا معاملہ ایک بار پھر سنگین سوالات کو جنم دینے لگا ہے۔ متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ شبیر اقبال نے پہلے اعتماد حاصل کیا، بعد ازاں دکانوں پر قبضہ کیا اور اب عدالتی کارروائی اور مقدمے کے باوجود مبینہ طور پر دوبارہ دکانوں پر قابض ہے، جبکہ متعلقہ پولیس کی خاموشی نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔متاثرہ بیوہ خاتون کے مطابق شبیر اقبال نے اس کے مرحوم شوہر احمد حسن سے دکانیں کرائے پر حاصل کیں۔ ابتدا میں باقاعدگی سے کرایہ ادا کرتا رہا اور رفتہ رفتہ احمد حسن اور ان کے اہل خانہ سے قریبی تعلقات قائم کر کے ان کا اعتماد حاصل کرتا رہا۔خاتون نے الزام عائد کیا کہ اسی دوران اس کے شوہر کی طبیعت مسلسل خراب ہونا شروع ہوئی اور بیماری شدت اختیار کرتی گئی، یہاں تک کہ وہ بستر پر آگئے اور بعد ازاں انتقال کر گئے۔ زہر خورانی یا سلو پوائزن کے الزام کی بھی خاتون کی جانب سے بات کی گئی ہے، تاہم اس سنگین دعوے کی آزادانہ اور طبی تصدیق ضروری ہے۔شوہر کے انتقال کے بعد بھی شبیر اقبال کچھ عرصہ تک کرایہ ادا کرتا رہا اور بیوہ کا ہمدرد بن کر خاندان کے قریب رہا۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ بعد ازاں مختلف حیلے بہانوں سے اس سے کاغذات پر انگوٹھے لگوائے گئے اور اسے بتایا گیا کہ یہ دستاویزات مکان اور دکانیں اس کے نام منتقل کروانے کے لیے ہیں۔خاتون کے مطابق اعتماد کی بنیاد پر اس نے کاغذات پر انگوٹھے لگا دیے، مگر کچھ عرصہ بعد کرایہ بند کر دیا گیا۔ جب بیوہ نے کرایے کا مطالبہ کیا تو مبینہ طور پر اسے بتایا گیا کہ اس کے مرحوم شوہر نے یہ جائیداد شبیر اقبال کو فروخت کر دی تھی اور رقم بھی ادا کی جا چکی ہے۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اسے دکانوں سے نکال دیا گیا اور یوں اس کے اور اس کے یتیم بچوں کے واحد ذریعۂ روزگار کا راستہ بند ہو گیا۔متاثرہ خاندان کے مطابق پولیس سے بارہا رجوع کیا گیا، تاہم فوری داد رسی نہ ہونے پر بیوہ اپنے یتیم بچوں سمیت روزنامہ قوم کے دفتر پہنچی اور اپنی فریاد پیش کی۔ معاملے کی صحافتی سطح پر نشاندہی اور خبر سامنے آنے کے بعد متاثرہ خاندان نے عدالتی فورم سے بھی رجوع کیا۔خاتون کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران شبیر اقبال سے جائیداد کی خریداری کے دعوے کے ثبوت طلب کیے گئے، جبکہ مبینہ طور پر وہ عدالت میں ادائیگی کے شواہد پیش نہ کر سکا۔ مزید یہ کہ عدالتی کارروائی کے دوران اس کی جانب سے پیش کی جانے والی بعض دستاویزات اور سابقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی سوالات کی زد میں آئی۔معاملے میں عدالت کی جانب سے مقدمہ درج کرنے اور گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے، جس کے بعد پولیس نے شبیر اقبال کو گرفتار کیا اور اسے عدالت کے ذریعے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔متاثرہ خاندان کے مطابق ملزم تقریباً دو ماہ جیل میں رہا اور عدالتی حکم کے باوجود پولیس نے دکانیں وا گزار نہ کروائی۔ بعد ازاں ضمانت پر رہائی کے بعد مبینہ طور پر دوبارہ دکانوں پر قابض ہوگیا۔اصل سوال پولیس سے ہےاور متاثرہ خاندان کا مؤقف درست ہے اور معاملہ واقعی عدالتی کارروائی، مقدمے اور گرفتاری کے مرحلے سے گزر چکا ہے تو پھر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ضمانت پر رہائی کے بعد دکانوں کا قبضہ دوبارہ کیسے برقرار رہا؟کیا پولیس نے عدالتی احکامات اور مقدمے کی موجودگی کے باوجود صورتحال کا جائزہ لیا؟کیا بیوہ اور یتیم بچوں کو ان کے مبینہ حقِ ملکیت اور ذریعۂ معاش کے تحفظ کے لیے قانونی معاونت فراہم کی گئی؟اور اگر خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات غلط ہیں تو پھر متعلقہ فریق کو کھل کر اپنا مؤقف پیش کرنے اور دستاویزی ثبوت سامنے لانے کا موقع کیوں نہیں دیا جا رہا؟یہ معاملہ صرف چند دکانوں یا ایک خاندان کے درمیان جائیداد کے تنازع کا نہیں، بلکہ ایک بیوہ اور یتیم بچوں کے روزگار کا معاملہ ہے۔اگر ایک کمزور خاندان عدالتی دروازہ کھٹکھٹانے، مقدمہ درج کروانے اور ملزم کی گرفتاری تک پہنچنے کے باوجود اپنے ذریعۂ معاش سے محروم رہتا ہے تو یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوال ضرور اٹھاتا ہے۔پولیس کی ذمہ داری صرف مقدمہ درج کرنا نہیں بلکہ قانونی عمل کو مؤثر بنانا، عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانا اور کمزور فریق کو قانون کے مطابق تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔ اس معاملے کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ کسی پولیس اہلکار یا افسر کی ملی بھگت ہے، لیکن متاثرہ خاتون کی مسلسل فریاد اور مبینہ طور پر دکانوں پر دوبارہ قبضے کی صورتحال پولیس کے لیے ضرور ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔متاثرہ بیوہ اور اس کے یتیم بچوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف انکوائری کرائی جائے، عدالتی احکامات اور مقدمے کا مکمل ریکارڈ دیکھا جائے، جائیداد سے متعلق تمام دستاویزات کی قانونی حیثیت جانچی جائے اور اگر کسی فریق نے قانون شکنی کی ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ساتھ ہی پولیس کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے کہ متاثرہ خاندان کی شکایات پر بروقت کارروائی کیوں نہ ہو سکی۔کیونکہ سوال صرف ایک بیوہ کا نہیں، سوال یہ ہے کہ اگر ایک یتیم خاندان اپنے حق کے لیے عدالت اور پولیس کے دروازے پر جانے کے باوجود بے یار و مددگار رہ جائے تو پھر عام شہری انصاف کے لیے کہاں جائے؟قانون کی بالادستی اسی وقت ثابت ہوگی جب طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے قانون کا پیمانہ ایک ہو۔







