ہوٹلز مالکان با اثر، ٹمپریری ریذیڈنٹس ایکٹ کاغذی، غیر اخلاقی سرگرمیاں بے قابو

ملتان ( رپورٹ : اعجازمرتضیٰ )ٹیمپریری ریذیڈنس ایکٹ ” کاغذوں تک محدود”ملتان سمیت پنجاب کے بیشتر ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز غیر اخلاقی سرگرمیوں کے جدید مراکز، قانون کانفاذ چھوٹے ” اڈوں ” تک محدود،اپرکلاس سوسائٹی کے” لمبے ہاتھ اورمال پانی” پولیس افسران کا کارروائی سے گریز۔ٹیمپریری ریزیڈنٹس ایکٹ عملی طورپرغیرموثر ہوکررہ گیا۔ ذرائع کے مطابق ملتان سمیت پنجاب میں مختلف ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور نجی ہوسٹلز میں مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کی۔اطلاعات نے قانون پر عملدرآمد اور حکومتی نگرانی پر سوالات کھڑے کر دیے۔ پنجاب انفارمیشن آف ٹیمپریری ریزیڈنٹس ایکٹ 2015 کے تحت ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں قیام کرنے والے مہمانوں کی شناخت، ریکارڈ مرتب کرنے اور پولیس کو معلومات فراہم کرنا لازم ہے، جبکہ ہوٹل آئی سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹل نگرانی کا بھی انتظام موجود ہے، تاہم اس کے باوجود مختلف مقامات پر مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔قانون میں تمام ہوٹلوں کے لیے صرف شادی شدہ جوڑوں یا فیملیز کو کمرے دینے اور نکاح نامہ لازمی طلب کرنے کی کوئی عمومی شرط موجود نہیں، تاہم جسم فروشی،شراب، جوئے ومجرے کی محفلوں اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جانی چاہئیے ۔ پنجاب میں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں مبینہ غیر قانونی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف پولیس کارروائیوں نے نیا سوال کھڑا کردیا ہے کہ قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی کرنے والی پولیس خود کب اور کیوں کٹہرے میں آجاتی ہے؟ ریکارڈ کے مطابق لاہور میں ہوٹل چھاپے پر 5 پولیس اہلکار معطل ہوئے، جبکہ ایک گیسٹ ہاؤس پر مبینہ غیر قانونی چھاپے کے بعد ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار معطل کیے گئے ۔ قصور کے ایک فارم ہاؤس پر کارروائی، 55 افراد کی گرفتاری اور عدالت سے مقدمہ خارج ہونے کے بعد 2 پولیس اہلکار معطل ہوئے۔ملتان میں ایک معروف ہوٹل پرچھاپہ مارکر8 افرادکوگرفتارکرنے والاایس ایچ او معطل ہوا۔اس صورتحال میں پولیس افسران بااثر مالکان کے ہوٹلزوگیسٹ ہائوسزپرچھاپوں سے گریزکررہے ہیں کہ نجانے کس ہوٹل وگیسٹ ہائوس مالک کاکس اعلیٰ افسر وبااثرسیاسی شخصیت سے تعلق نکل آئے اورپولیس کو”لینے کے دینے ” پڑجائیں۔عوامی حلقوں کی طرف سے حکومت پنجاب اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہوٹل آئی نظام پر مؤثر عملدرآمد، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مراکز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور چھاپوں و مقدمات کے مکمل اعداد و شمار عوام کے سامنے لائے جائیں، تاکہ جرائم کی روک تھام کے ساتھ شہریوں کے قانونی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے اورٹیمپریری ریذیڈنس ایکٹ 2015 کاعملی نفاذکیاجائے اورگیسٹ ہائوسز، ہوٹلزونجی ہوسٹلزپرغیرقانونی وغیراخلاقی سرگرمیوں کاخاتمہ کیاجائے۔اصول پسند پولیس افسران کوتحفظ فراہم کیاجائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں