منشیات فروش کے گھر چھاپہ، ملزم چھڑانے اور پولیس پر حملہ میں ملوث پروفیسر گرفتار

ملتان (ایجوکیشن سیل) وہاڑی روڈ کے علاقے کوٹ رب نواز میں اسلم پہلوان نامی ایک بڑے منشیات ڈیلر کے گھر سے اینٹی نارکوٹکس فورس چھاپہ مار کر 25 سے 30 لاکھ روپے مالیت کی چرس اور ہیروئن برآمد کرکے وہاں سے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں ملتان کی ایمرسن یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرمان علی بھی شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے سسرمنشیات فروش اسلم پہلوان کو چھڑانے کے لیے چھاپہ مار ٹیم پر حملہ کیا بلکہ ان سے اسلحہ بھی چھین لیا۔ دیگر گرفتار شدگان میں طالب حسین شفیق اور پروفیسر عنصر شامل ہیں۔ ڈاکٹر فرمان علی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ملازم ہیں اور گزشتہ کئی سال سے ڈیپوٹیشن پر سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان گجر کے دور میں ایمرسن یونیورسٹی میں تعینات ہوئے تھے اور اسلامیات ڈیپارٹمنٹ میں پڑھا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر فرمان انتہائی آلودہ شہرت کے حامل ہیں اور ان پر یونیورسٹی میں ہراسمنٹ کا کیس بھی چل رہا ہے اور یہ بھی ڈاکٹر رمضان گجر ہی کا اس یونیورسٹی کو دیا گیا تحفہ ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام گرفتار شدگان اکٹھے رہتے تھے اور یہ اسلم نامی ایک شخص کا گھر تھا جہاں گزشتہ رات منشیات کی یہ کھیپ لائی گئی تھی جس کی مخبری ہوئی تو یہ کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے فوری طور پر چھاپہ مار کر اس گھر سے منشیات برآمد کر لیں۔ روزنامہ قوم کو مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس گھر میں گزشتہ کئی سالوں سے منشیات کا دھندہ ہوتا تھا اور یہ تھوک میں لا کر گھر میں ہی اس کی چھوٹی چھوٹی پڑیاں تیار کرکے ملتان کے مختلف علاقوں میں اپنے کارندوں کے ذریعے سپلائی کرتے تھے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ایمرسن یونیورسٹی میں اسلامیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرمان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ بھی درج کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں