ملتان (کرائم سیل)خانیوال پولیس کا کریک ڈاؤن ملتان پولیس کا حاضر سروس کانسٹیبل حماد اکرم گرفتار، شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوا دیا گیا، ملتان پولیس کے اہلکار کے سابقہ مقدمات کا ریکارڈ بھی سامنے آگیا۔تفصیلات کے مطابق جہانیاں میں ڈکیتی کے ایک مقدمے کی تفتیش نے اس وقت نیا رخ اختیار کرلیا جب خانیوال پولیس نے ملتان پولیس کے کانسٹیبل حماد اکرم ولد محمد اکرم کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوا دیا گیا، جبکہ پولیس کی تفتیش آگے بڑھ رہی ہے۔معاملے میں دلچسپی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ گرفتار کانسٹیبل سے متعلق دستیاب سابقہ پولیس ریکارڈ بھی سامنے آگیا ہے، جس میں ملتان اور شجاع آباد کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات کا حوالہ موجود ہے۔ تاہم ریکارڈ میں موجود مقدمات کی قانونی حیثیت مختلف ہے اور بعض میں ڈسچارج کا اندراج بھی موجود ہے۔دستیاب ریکارڈ کے مطابق تھانہ بہاؤالدین زکریا ملتان میں پنجاب آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت مقدمہ نمبر 312/24 درج ہے، جس میں حماد اکرم کو چالان پر گرفتار ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی تھانے میں دفعہ 392 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ نمبر 239/24 اور 249/24 بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ دستیاب اندراج کے مطابق دونوں مقدمات میں حماد اکرم کو ڈسچارج ظاہر کیا گیا ہے۔دوسری جانب تھانہ سٹی شجاع آباد میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 392 اور 411 کے تحت مقدمہ نمبر 573/22 درج ہے، جس کے دستیاب ریکارڈ میں بھی حماد اکرم کو چالان پر گرفتار ظاہر کیا گیا ہے۔چار سابقہ مقدمات کا یہ ریکارڈ سامنے آنے کے بعد جہانیاں کے موجودہ مقدمے کی تفتیش مزید توجہ کا مرکز بن گئی ہے، تاہم سابقہ مقدمات اور موجودہ کیس کے درمیان کسی تعلق کا تعین شواہد اور تفتیش کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔پولیس کے مطابق موجودہ مقدمے میں گرفتار کانسٹیبل کی شناخت پریڈ کرائی جا رہی ہے۔ یہ مرحلہ اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ مقدمے سے متعلق شناخت کے عمل کو قانونی طریقہ کار کے مطابق مکمل کیا جاسکے۔ تاہم شناخت پریڈ یا گرفتاری کی بنیاد پر ملزم کے خلاف حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔تفتیش کے دوران اصل سوال یہی ہے کہ جہانیاں میں پیش آنے والے واقعے کے شواہد کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور گرفتار کانسٹیبل کے خلاف موجودہ مقدمے میں کیا قابلِ قبول مواد سامنے آتا ہے۔ پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ دیگر ممکنہ افراد کے حوالے سے کسی کارروائی کا فیصلہ تفتیشی نتائج اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔معاملے کا ایک حساس پہلو یہ بھی ہے کہ گرفتار شخص ملتان پولیس سے وابستہ کانسٹیبل بتایا جاتا ہے۔ ایسے میں موجودہ مقدمے کی تفتیش کے ساتھ اس کے سابقہ ریکارڈ کی قانونی حیثیت بھی اہمیت رکھتی ہے، لیکن ہر مقدمے کے نتائج اور کارروائی کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہوگا۔دستیاب ریکارڈ میں ایک طرف آرمز آرڈیننس اور ڈکیتی سے متعلق مقدمات موجود ہیں، تو دوسری طرف دو مقدمات میں ڈسچارج کا اندراج بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محض مقدمات کی تعداد یا ایف آئی آر میں نام کی بنیاد پر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا قانونی طور پر درست نہیں ہوگا۔خانیوال پولیس کی موجودہ کارروائی اب شناخت پریڈ اور تفتیش کے اگلے مراحل سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر تحقیقات میں مزید قابلِ اعتماد شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ اسی طرح کسی دوسرے شخص کے مبینہ کردار کے بارے میں بھی حتمی بات شواہد سامنے آنے کے بعد ہی کی جاسکے گی۔یوں جہانیاں کے ایک ڈکیتی مقدمے میں ہونے والی گرفتاری نے ملتان پولیس کے ایک کانسٹیبل سے متعلق سابقہ مقدمات کا ریکارڈ بھی سامنے لا دیا ہے۔ اب توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ موجودہ مقدمے کی شناخت پریڈ اور تفتیش سے کیا حقائق سامنے آتے ہیں اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کس سمت جاتے ہیں۔واضح رہے کہ ایف آئی آر کا اندراج، گرفتاری یا چالان جرم ثابت ہونے کا حتمی ثبوت نہیں۔ دستیاب ریکارڈ میں جن مقدمات میں ملزم کو ڈسچارج ظاہر کیا گیا ہے، انہیں بھی اسی قانونی حیثیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ موجودہ مقدمے میں حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت شواہد اور قانون کی بنیاد پر کرے گی۔







