بہاولپور(کرائم رپورٹر)غنی ور کے علاقے میں واقع ذیشان ٹاؤن میں منظور شدہ نقشہ، رجسٹریشن، پارک اور ڈسپوزل کی جگہوں کی خریدوفروخت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں جبکہ علاؤہ مکینوں نے پٹواری ، سب رجسٹرار سٹی، بلڈنگ انسپکٹر اور ٹاؤن مالکان سمیت بعض متعلقہ افراد پر ملی بھگت اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوے اعلیٰ افسران سے فوری شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے علاؤہ مکینوں کے مطابق زیشان ٹاؤن کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں پارک اور ڈسپوزل کے لیے مختص جگہوں کے بارے میں بھی تحفظات سامنے آئے ہیں شہریوں کا الزام ہے کہ مذکورہ جگہوں کو رہائشی پلاٹون میں تبدیل کر کے فروخت کیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے ٹاؤن کے مکینوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ 27 اپریل 2026 کو کھیوٹ نمبر 102 کھتونی نمبر 229 تا 236 اور رجسٹری نمبر 0003532-2026-001 کے تحت عبد القیوم نامی شخص کو زیشان ٹاؤن کے پارک کے لیے مختص جگہ میں سے تین مرلے کا پلاٹ فروخت کیا گیا شہریوں کا الزام ہے کہ اس معاملے میں پٹواری سہیل اصغر ڈوگر اور منشی صادق انصاری کی جانب سے موقع کی اصل نوعیت کی تصدیق کیے بغیر مبینہ طور پر ایسی رپورٹ تیار کی گئی جس میں جگہ کو بستی غنی پور ظاہر کیا گیا شہریوں نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر سب رجسٹرار سٹی ظہورِ احمد اعوان نے بھی رجسٹری منظور کر دی جبکہ ٹی ایم اے میں تعینات متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر عبد الرزاق کی جانب سے بھی نقشے میں مذکورہ جگہ کو بستی غنی پور ظاہر کیے جانے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں زیشان ٹاؤن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر ٹاؤن باقاعدہ طور پر ٹی ایم اے سے منظور شدہ ہے تو منظور شدہ نقشے میں پارک، ڈسپوزل، مسجد اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص جگہیں کہاں ہیں؟ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اصل منظور شدہ لے آؤٹ پلان موقع کی پیمائش، رجسٹری ریکارڈ اور متعلقہ نقشوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں بہاولپور کے عوامی وسماجی حلقوں اور زیشان ٹاؤن کے رہائشیوں نے کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور دیگر متعلقہ افسران سے خطاب کیا ہے کہ زیشان ٹاؤن کے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائے منظور شدہ نقشے اور موقع کی موجودہ صورتحال کا موازنہ کیا جائے سرکاری فیسوں کی ادائیگی کا ریکارڈ چیک کیا جائے اور اگر تحقیقات میں قواعد کی خلاف ورزی یا کسی اہلکار یا فرد کی زمہ داری ثابت ہو تو قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے اس خبر کے بارے میں موقف لینے کے لیے متعلقہ پٹواری کو بار بار کال کی گئی جنہوں نے کال اٹینڈ نہیں کی اور بلڈنگ انسپکٹر عبد الرزاق سے مؤقف کیلیے کال کی گئی جنہوں نے کہا کہ میں فل حال مصروف ہوں۔







