زینب کے قاتلوں کے بعد تختہ دار خالی، سزائے موت پانے والے مجرم کہاں گئے؟

ملتان(رپورٹ : اعجازمرتضیٰ)زینب کیس کے بعد22ہزارسے زائد بچوں کےاغوا،زیادتی و قتل کےواقعات،8 سال میں کوئی مجرم پھانسی نہیں چڑھا۔ایک زینب کو انصاف ملا، مگر ہزاروں زینب بیٹیوں کا سوال آج بھی جواب کا منتظر، زینب کے نام پر قانون بن گیا، مگر زینب جیسی معصومیت آج بھی محفوظ نہ ہو سکی۔زینب کے بعد قانون بنا، الرٹ بنا، نظام بنا، مگر موثرعملدرآمد نہ ہوا؟بچے اغوا ہوتے رہے، معصومیت پامال ہوتی رہی، جنازے اٹھتے رہے اور فائلیں ایک میز سے دوسری میز تک سفر کرتی رہیں۔زینب کے قاتل کو تختۂ دار تک پہنچا کر سمجھا گیا تھا کہ شاید انصاف کا دروازہ کھل گیا، مگر پھر وہی دروازہ سوالات کے تالے میں بند ہو گیا۔زینب کے بعد قانون بنا، الرٹ بنا، نظام بنا، مگر سوال یہ ہے کہ مجرموں کے لیے خوف کتنا بنا؟بچے اغوا ہوتے رہے، معصومیت پامال ہوتی رہی، جنازے اٹھتے رہے، اور فائلیں ایک میز سے دوسری میز تک سفر کرتی رہیں۔تختۂ دار پر ایک مجرم لٹکا، مگر جرم کا خوف کیوں نہ ہو سکا؟ایک زینب کو انصاف ملا، مگر ہزاروں زینب بیٹیوں کا سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے۔سوال یہ نہیں کہ کتنی سزائیں سنائی گئیں، سوال یہ ہے کہ کتنی سزائیں پوری ہوئیں۔ تفصیل کے مطابق زینب کے قاتل کے بعد کسی اور بچے کے ریپ و قتل کے مجرم کوآج 8 سال کے عرصے میں پھانسی نہ دی جا سکی؟ ہزاروں واقعات، متعدد سزائے موت مگر تختۂ دار خالی ہے۔قصورمیں شہید ہونے والی بچی ینب کے قاتل عمران علی کو 17 اکتوبر 2018 کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ عمران کو زینب سمیت کم سن بچیوں کی بے حرمتی اور قتل کے مقدمات میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس کے بعد کئی انتہائی سنگین مقدمات میں عدالتوں نے سزائے موت سنائی، مگر وہ سزائیں پھانسی پر عمل درآمد کے برابر نہیں ہیں۔دستیاب ریکارڈ کے مطاب2024میں پشاور ہائیکورٹ نے آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی؛ مقدمہ 2018 کے واقعے کا تھا۔جنوری 2025میں لاہور میں آٹھ سالہ بچی کی بے حرمتی اور قتل کے مجرم کو سزائے موت سنائی گئی۔ اپریل 2025 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کم سن بچے کے اغوا، ریپ اور قتل کے مجرم کو تین مرتبہ سزائے موت سنائی گئی۔ ستمبر 2025میں راولپنڈی میں 13 سالہ بچے کے اغوا، ریپ اور قتل کے مجرم کو تین مرتبہ سزائے موت سنائی گئی۔ جون 2026میں سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پانچ سالہ بچی کی بے حرمتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی یعنی سزا برقرار رہی، بلکہ مختلف مقدمات میں سزائے موت بعد میں عمر قید میں تبدیل بھی ہوئی، مثلاً سندھ ہائیکورٹ نے 2021 میں ایک کم سن بچی کی بے حرمتی اور قتل کے چار مجرموں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی تھی۔زینب کے قاتل کو سزا ملنے کے واقعے نے ملک بھر میں یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے مجرموں کے خلاف قانون حرکت میں آ گیا ہے، لیکن بعد کے برسوں میں بچوں کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہونے کے باوجود سوال اب یہ ہے کہ سزائے موت سنائے جانے والے ان مجرموں کی سزاؤں پر عمل درآمد کہاں تک پہنچا؟دستیاب ریکارڈ میں 2024، 2025 اور 2026 کے دوران بچوں کے ریپ اور قتل کے متعدد مقدمات میں سزائے موت سنائے جانے یا برقرار رکھے جانے کی اطلاعات موجود ہیں، مگر ان میں سزا سنائے جانے اور حقیقتاً پھانسی دیے جانے میں واضح فرق ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عدالتوں نے 429 بچوں کے قاتلوں میں سے کتنے مجرموں کو سزائے موت سنائی بلکہ یہ ہے کہ زینب کے قاتل عمران علی کے بعد کتنے ایسے مجرموں کو واقعی تختۂ دار تک پہنچایا گیا؟ ستمبر 2026 تک زینب کے بعد ایسا کوئی مستند واقعہ سامنے نہیں آیا۔بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے مقدمات میں تفتیش، پراسیکیوشن، عدالتی فیصلے اور سزا پر عمل درآمد تک مکمل اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ اگر عدالتیں سزائے موت سناتی ہیں مگر سزا پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو متاثرہ خاندانوں اور معاشرے کے سامنے انصاف کے آخری مرحلے سے متعلق سوال بدستور موجود رہتا ہے۔زینب کے بعد قانون تو بنا، مقدمات بھی درج ہوئے، کئی مجرموں کو سزائے موت بھی سنائی گئی، مگر تختۂ دار تک پہنچنے والے مجرموں کی تعداد کیا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب حکومت، جیل خانہ جات، پولیس، پراسیکیوشن اور عدلیہ کے متعلقہ ریکارڈ سے سامنے آنا چاہیے۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ زینب الرٹ قانون پرعملدرآمد کیاجائے اوربچوں کے اغوا،زیادتی اورقتل کے سفاک مجرموں کاتیزترین عدالتی ٹرائل اورسرعام پھانسیاں دی جائیں۔مجرموں کونشان عبرت بنایاجائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں