دانش سکول تونسہ میں بچی کی ہلاکت، والد کا انتظامیہ پر حقائق چھپانے کا الزام

تونسہ شریف (نمائندہ قوم)تونسہ شریف کوٹ قیصرانی دانش سکول تونسہ شریف میں بچی کی ہلاکت ، والد کے سکول انتظامیہ کی طرف سے حقائق کو چھپانے کے سنگین خدشات، شفاف تحقیقات کا مطالبہ تفصیل کے مطابق دانش سکول تونسہ شریف میں بچی کی افسوسناک موت کے معاملے پر والد محمد رمضان کی جانب سے متعدد سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بچی کی موت صبح ورزش کے دوران ہوئی تو اس وقت کی مکمل CCTV فوٹیج اہلِ خانہ کو دکھائی جائے۔ والد کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے کیمرے بند ہونے کا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے، جس پر وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک بڑے تعلیمی ادارے میں CCTV نظام بند کیوں تھا؟محمد رمضان نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ان کی بچی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس معاملے کو چھپانے کے لیے پرنسپل نادیہ مجید تمام تر معاملات کو کنٹرول کرنے میں لگی ہوئی ہے ،ان کا مطالبہ ہے کہ پوسٹ مارٹم، CCTV ریکارڈ، میڈیکل شواہد، عینی شاہدین کے بیانات اور بچی کی موت سے متعلق تمام پہلوؤں کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔سکول انتظامیہ کے مطابق بچی کی وفات تقریباً کل صبح 6 بجے ہوئی اور لاش ورثاء کو دوپہر 1 بجے حوالے کی گئی، یعنی تقریباً 6 گھنٹے کا وقفہ بنتا ہے۔ اس دوران کیا کارروائی ہوئی؟ یہ سوال بھی شفاف تحقیقات کے ذریعے واضح ہونا چاہیے۔ ان کی پرزور اپیل ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز،کمشنر ڈیرہ غازی خان چوہدری محمد اشفاق احمد واقعے کی غیر جانب دار، شفاف اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں، حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر کسی فرد کی غفلت، تشدد یا جرم ثابت ہو تو ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے۔یہ صرف ایک خاندان کا معاملہ نہیں، دانش سکول میں زیرِ تعلیم دیگر بچوں کے والدین کا اعتماد بھی اس معاملے سے وابستہ ہے۔ انصاف، شفافیت اور حقائق کا سامنے آنا ہی اس اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں