ملتان(نیوز رپورٹر)چھوٹی دکان، محدود آمدن ، پیچیدہ ٹیکس نظام، عام تاجر نئی آزمائش میں پھنس گیا، ایف بی آر کی نئی ٹیکس سکیم نے دکانداروں کے سامنے رجسٹریشن، حساب کتاب اور گوشواروں کی نئی ذمہ داریاں کھڑی کر دیں، بروقت رہنمائی نہ ملی تو معمولی کاروبار کرنے والوں کو اضافی مالی بوجھ اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایف بی آر نے 29 ستمبر کو واضح کیا ہے کہ خصوصی ٹیکس سکیم ابھی ابتدائی نفاذ کے مرحلے میں ہے اور رجسٹریشن کے دوران تاجروں کو بعض عملی و تکنیکی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ بجٹ 2026-27 میں چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی طریقہ کار کا دائرہ وسیع کرنے کی نشاندہی کی گئی ہےجس کے بعد کاروباری طبقے کے لیے قانونی تقاضوں کی تکمیل پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔معمولی دکان چلانے والے ایسے افراد جو حساب کتاب، آن لائن اندراج اور ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے مراحل سے واقف نہیں، انہیں ماہرین یا ایف بی آر سے رہنمائی لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نئی پالیسی کے تحت ہر کاروباری کی حقیقی ٹیکس ذمہ داری کس بنیاد پر طے ہوگی اور چھوٹے کاروبار کو قانونی تقاضے پورے کرنے پر کتنی لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔اگر دکاندار کو اپنی ذمہ داریوں، مقررہ تاریخوں اور مطلوبہ دستاویزات کا علم نہ ہو تو لاعلمی آئندہ جرمانے، اضافی مالی ادائیگی یا دیگر قانونی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق سکیم کا مقصد چھوٹے دکانداروں کو نسبتاً آسان اور سہولت پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے دستاویزی نظام میں شامل کرنا اور رضاکارانہ تعمیل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جبکہ رجسٹریشن میں دشواری پیش آنے والوں کو براہ راست رابطے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔دوسری جانب تاجر رہنماؤں کے لیے بھی یہ صورتحال ایک عملی امتحان ہے کہ وہ صرف اجلاسوں اور بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مارکیٹوں میں باقاعدہ آگاہی مہم شروع کریں۔ ہر دکاندار کو اس کے قانونی فرائض، اندراج کا طریقہ، ممکنہ اخراجات اور مقررہ تقاضے پورے نہ کرنے کے نتائج سادہ زبان میں سمجھائے جائیں تاکہ معلومات کی کمی کسی چھوٹے کاروباری کے لیے مستقبل میں مالی یا قانونی مسئلہ نہ بنے۔







